خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 372
خطبات طاہر جلد 15 372 خطبہ جمعہ مورخہ 17 مئی 1996ء کچھ علم ہے نہ غیب کا کچھ علم ہے اور چونکہ علم سے ہی کبر اور علم ہی سے بلندی عطا ہوتی ہے۔تمام سر بلندی علم کے نتیجہ میں ہے تمام عظمت علم کے نتیجہ میں ہے۔اس لئے نہ انسانوں میں کوئی کبیر ہے نہ انسانوں میں کوئی متعال ہے۔اگر کبیر ہے تو اللہ کی ذات ہے۔اگر متعال ہے تو وہ اللہ ہی کی ذات ہے اور جہاں تک بندوں کا تعلق ہے وہ جو کچھ چھپاتے ہیں اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ، جو ظاہر کرتے ہیں اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔سب برابر ہیں اس کی نظر میں۔مِّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَبِهِ جهر به۔خواہ وہ بلند آواز میں اونچی اونچی باتیں کرے اور اپنے بلند بانگ ارادوں کا اظہار کرے یا دعاوی کرے یا کوئی مخفی باتیں دل میں چھپائے پھرتا ہو۔فرمایا خدا کی نظر میں سب برابر ہیں۔وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفِ بِالَّيْلِ وَسَارِبُ بِالنَّهَارِ اور جو رات کے پردوں میں چھپتا پھرے اور دن کو کھلم کھلا باہر نکلے ان دونوں کی حقیقت کو بھی وہی جانتا ہے اور ان سب کے لئے ہر حال میں خدا ہی کی تقدیر کے تابع مقرر کردہ ایسے محافظ ہیں جو ان کی حفاظت فرمارہے ہیں اور اگر خدا کی حفاظت نہ ہوتی تو نہ رات کو زندگی کا قیام ممکن تھا، نہ دن کو زندگی کا قیام ممکن تھا۔تو اللہ کی حفاظت کی تقدیر کے تابع یہ جو آگے پیچھے، دائیں بائیں ان کے ساتھ جاری ہے ان کو ہر لحظہ موت سے بچارہی ہے۔اس موقعہ پر مسجد کے لاؤڈ سپیکر کی آواز میں خرابی کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے حضور نے خطبہ روک دیا اور اس ضمن میں ضروری ہدایات جاری فرما ئیں۔اس نظام کی درستگی کے بعد حضور انور نے خطبے کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا ) میں یہ بیان کر رہا تھا کہ قرآن کریم میں جہاں علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کا مضمون ہے وہاں یہ بھی ہے کہ تمہیں جب کسی حال کا علم نہیں ، نہ ظاہر کا ، نہ غیب کا تم اپنی حفاظت کا کیا انتظام کر سکتے ہو، کچھ بھی نہیں اور جو اندرونی خطرات ہیں اور اکثر اندرونی ہیں اور جو خفی خطرات ہیں اور اکثر مخفی ہیں ان سے انسان کے اندر مقابلے کی طاقت ہی نہیں کیونکہ علم کے بغیر مقابلہ ممکن نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے جہاں جس جس پہلو سے کسی انسان کو علم سے محروم رکھا ہے وہاں اس کی نگرانی کی ذمہ داری خود سنبھالی ہے۔پس یہ تعلق ہے اس مضمون کا لَهُ مُعقبت مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَ مِنْ امْرِ اللهِ کہ انسان کے آگے اور پیچھے خدا کے حکم سے ایسے کارندے چلتے ہیں جو