خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 326
خطبات طاہر جلد 15 326 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء تجارت ہی مگر مقبول تجارت ہے وہ تجارت ہے جسے اللہ محبت کی نظر سے دیکھتا ہے۔مگر جس سودے کی بات میں کر رہا ہوں وہ خالصتاً محبت کا سودا ہے جیسے مائیں اپنے بچوں کے لئے کرتی ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بعض عاشق اپنے محبوبوں کے لئے کرتے ہیں ان کو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ دنیا میں کسی کو علم ہوا ہے کہ نہیں ہوا۔ہاں یہ فکر ہوتا ہے کسی اور کو علم نہ ہو جائے۔پس یہ محبت کا سودا ہے جو خدا سے کریں تو پھر آپ کو یسرا قربانی کا لطف عطا ہوگا اور یہ لطف آپ کو ہمیشہ کے لئے ایسی قربانی کا Adict کر دے گا۔اس کا ایسا عادی بنادے گا کہ اس نشے سے پھر آپ کو چھٹکارا مشکل ہو جائے گا۔پس خدا کے لئے جو کچھ بھی کریں اس کی محبت میں کریں اور اگر محبت کا جذ بہ اس وقت موجزن نہیں ہوتا تو فکر کریں کہ آپ کی قربانی کو دوام کیسے ملے گا۔اس کے لئے ایک دعا ہے جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں سکھائی ہے اسے آپ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔عربی زبان میں تو سب کے لئے بلکہ اکثر کے لئے یاد کرنا مشکل ہے مگر مضمون اس کا اتنا سادہ سا ، پیارا سا ہے کہ ہر شخص کو وہ اپنی زبان میں آسانی سے یاد ہوسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اے خدا مجھے اپنی محبت عطا کر۔ان لوگوں کی محبت عطا کر ، جن کی محبت مجھے تیری طرف لے جائے ، ان لوگوں کی محبت عطا کر جن سے تو محبت کرتا ہے، ان چیزوں کی محبت عطا کر جو مجھے تیری محبت کی طرف کھینچ لے جائیں اور ایسی محبت عطا کر کہ شدید پیاسے کو ٹھنڈے پانی سے جو لطف آتا ہے مجھے اس سے زیادہ تیری محبت میں لطف آنے لگے۔یہ دعا اگر آپ کریں گے تو وہ چیز جو بظاہر ہمارے ہاتھ میں نہیں ، ہمارے بس میں نہیں ہے وہ ممکن ہو جاتی ہے۔پھر انسان ایک نئی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ایسا شخص جو مذہب پر محبت کے نتیجے میں عمل کرتا ہے وہی ہے جو بقا اختیار کر جاتا ہے۔وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی دوسری دنیا کا انسان بن جاتا ہے اور اسے کوئی خطرہ نہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا ذکر أَلَا إِنَّ اولیاء اللہ کر کے فرمایا ہے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کچھ لوگ ہیں جو خدا کی خاطر استقامت دکھاتے ہیں ان کا ذکر الگ فرمایا ہے وہاں بھی لاخوف اور لاحزن کی بات ہے مگر اس آیت کی شان ہی الگ ہے فرماتا ہے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمُ يَحْزَنُونَ خبر دار سنو! جو اللہ کے دوست بن جاتے ہیں ان کو کوئی غم نہیں ، کوئی حزن نہیں ان سب باتوں سے بالا ہو جاتے ہیں۔