خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 327

خطبات طاہر جلد 15 327 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء پس محبت کی قربانی سے بہتر کوئی دنیا میں قربانی نہیں سب سے محفوظ قربانی یہ ہے اور یہی وہ قربانی ہے جو اس دنیا سے اس دنیا میں منتقل ہونے کا اول حق رکھتی ہے۔اسی لئے فرمایا کہ وہ دن آنے والا ہے جب کہ یہ دفتر بند ہو جائیں گے۔یہ قربانیوں کے سلسلے، یہ خدا کی خاطر خرچ کرنا چند روزہ زندگی ہی کے لئے ہے اس کے بعد یہ سب سلسلے ختم ہیں۔اس سے پہلے پہلے کر لو اور خدا کو راضی کر لو خدا سے وہ محبت کے سودے کرو جو پھر ہمیشہ ہمیش تمہارے کام آئیں گے کوئی دنیا کا کھاتہ اس دنیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا مگر یہ کھاتہ جس کا قرآن کریم ذکر فرما رہا ہے ضرور تبدیل ہوگا۔پس اس نقطہ نظر سے جب آپ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو وہ خرچ کرنا ایک عجیب لطف پیدا کرتا ہے اس خرچ میں قطعا ذرہ بھر بھی دل پر بوجھ نہیں پڑتا بلکہ حیرت انگیز سرور پیدا ہوتا ہے اور انسان اس دنیا میں دوام۔کے لمحات حاصل کر لیتا ہے۔اسے ازل کا مزہ آنے لگتا ہے کہ ازل ہوتی کیا ہے۔وہ لطف جو خدا کی محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اس کے اندر ایک ازلیت پائی جاتی ہے۔وہ نہ ختم ہونے والا ہے، ہمیشہ ہمیش کا ساتھ دینے والا ہے۔پس اس پہلو سے آپ جو قربانیاں پیش کرتے ہیں اور کر رہے ہیں ان میں اور نکھار پیدا کر لیں۔کرتے تو خدا ہی کی خاطر ہیں اگر خدا کی خاطر نہ کرتے تو شور پڑتا اور MTA اس بات کے لئے وقف رہتی کہ فلاں نے اتنے روپے دے ریے الله اکبر فلاں نے اتنے روپے دے دیئے اللہ اکبر۔اشارہ بھی کسی کا نام نہیں لیا جارہا۔ان کا ذکر ہی نہیں وہ فہرست ہی موجود نہیں۔ہاں اللہ اکبر کے نعرے ہیں جو بلند ہورہے ہیں۔اس لئے کرتے تو آپ خدا کی خاطر ہیں مگر خدا کی خاطر جو کچھ بھی کرتے ہیں اس میں نئے رنگ بھرے جاسکتے ہیں، اسے نئے حسن کے ساتھ نکھارا جا سکتا ہے اور یہ وہ حسن کا طریق ہے جو محسن بننے کا طریق ہے جو میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔اپنے اپنے رنگ میں ، اپنی اپنی مالی قربانیوں یا خدا کی خاطر جو وقت آپ خرچ کرتے ہیں اس پر بھی آپ نگاہ رکھیں اور اپنے نفس کا یہ امتحان لیتے رہیں کہ اس کے نتیجے میں آپ کو کتنا سرور حاصل ہوا ہے۔بوجھ پڑا تھایا مزہ آیا تھا اور اگر مزہ آیا تھا تو محبت کے بغیر آ نہیں سکتا۔پھر خدا کے فضل سے آپ کو کم سے کم آشنائی ہو گئی ہے اس طریق کی اور اگر بوجھ پڑتا ہے اور طبیعت میں ایک قسم کی فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ کب تک میں یہ کام کھینچ سکتا ہوں ایسے لوگ اپنی قربانیوں کو ضائع کر دیتے ہیں اور