خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 325
خطبات طاہر جلد 15 325 خطبہ جمعہ 26 اپریل 1996ء چلی جاتی ہے لیکن اس کے علاوہ جو کھلا ہاتھ چلتا تھا جس کا ذکر رمضان کے مہینے کے خطبات میں میں نے کیا صحابہؓ کہتے ہیں اس طرح خرچ کرتے تھے جیسے ایک تیز چلنے والی ہوا آندھی بن جائے۔بہت ہی حیرت انگیز قربانیاں، مالی قربانیوں کے نمونے آپ دکھایا کرتے تھے لیکن دکھاتے تھے خدا کی خاطر، بندے کی خاطر نہیں۔آپ کا دل سیسا میں تھا اسی لئے راتوں کا اکثر حصہ جاگتے تھے جب کوئی آنکھ آپ کو نہیں دیکھ رہی ہوتی تھی۔پس یسرا کا ذکر نماز کے بعد کرنا ایک یہ بھی معنی رکھتا ہے۔اوّل تو عبادت کو ویسے ہی انفاق سے پہلے کا حق ہے یعنی مرتبہ اس کا ایسا ہے کہ انفاق سے پہلے ہی اس کا بیان ہونا چاہئے تھا مگر جس کی عبادتیں ایسی ہوں کہ جو سرا بھی ہوں اور عَلَانِيَةً بھی ہوں راتوں کو اٹھ کر بھی ہوں اور دن کی روشنی میں بھی ہوں اس کو حقیقت میں انفاق فی سبیل اللہ کا سلیقہ بھی سرًّا وَ عَلَانِيَةً آتا ہے اور وہ کر سکتا ہے۔جس کی نمازیں صرف دکھاوے کی ہوں وہ بے چارہ کہاں خدا کی راہ میں مخفی خرچ کر سکے گا۔پس جس نے اپنی راتوں کو چھپ کے جگایا ہواس کی مخفی قربانی واقعہ خدا کی خاطر ہے اور کسی سوچ و بچار کسی منطقی فارمولے کا نتیجہ نہیں بلکہ دل کا کاروبار ہے اور یہ بھی ایک خاص بات قابل توجہ ہے کہ محبت کے کاروبار اپنے اندر اخفاء رکھتے ہیں اور اخفاء کو پسند کرتے ہیں۔پس ایسا تحفہ کسی کو دیا جائے کہ کسی دوسرے کو کانوں کان خبر نہ ہو اور اس کی رضا انسان جیت جائے اور کسی کو پتا ہی نہ ہو کہ کیسے جیتی گئی۔یہ محبت ہی کا کرشمہ ہے، اس کے بغیر ہو نہیں سکتا۔پس یہ وہ بات ہے جو میں آج آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں ، ذہن نشین کروانا چاہتا ہوں اس کو کبھی نہ بھولیں ورنہ یہ ہمارے اطوار یہ اعلیٰ نمونے جو خدا نے ہمیں عطا کئے ہیں یہ رفتہ رفتہ ہمارے ہاتھوں سے ضائع ہو جائیں گے۔جو بھی مالی قربانی کرتے ہیں اللہ کی محبت کے نتیجے میں کریں محض ذمہ داری ادا کرنے کی خاطر نہیں یا محض ثواب حاصل کرنے کی خاطر نہیں۔ایک انفاق فی سبیل اللہ ثواب کی خاطر بھی ہوتا ہے۔اس انفاق فی سبیل اللہ کو اللہ تعالیٰ تجارت کہہ کر بیان فرماتا ہے۔هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابِ اَلِيْمِ (القت:11) وہ تجارت کے سودے ہیں جس میں یہ سودا ہے کہ عَذَابِ اَلِیمِ سے بچایا جائے اور اس میں انسان غور کرتا ہے فکر کرتا ہے کہتا ہے دیکھو خدا کی خاطر قربانی کا وقت ہے میرے گناہ بخشے جائیں گے میری کمزوریاں دور ہوں گی۔کئی قسم کے ایسے ذہن میں مفادات رکھتا ہے جن کو قربانی سے وابستہ کرتا ہے یہ ہے تو