خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 27
خطبات طاہر جلد 15 27 خطبہ جمعہ 12 جنوری 1996ء صلى الله صلى الله كَانَتْ عَلَيْهِمْ اور طوق ان کے کھولتا ہے گردنوں سے اور اتار کے پھینک دیتا ہے جو ان کی گردنوں میں مدتوں سے پڑے ہوئے تھے ۔ کیسا تھے۔ کیسا عظیم مضمون ہے اندھیر مون ہے اندھیروں سے نور کی طرف نکالنے کا۔ وہ سُبُلَ السَّلمِ بیان فرمادی گئیں جن کا اس آیت میں ذکر تھا کہ امن کی جو راہیں یہ کھولتا ہے یہ تمہیں پکڑ کر امن کے رستوں پر چلاتا ہے ، ان سب امور میں یہ محنت کرتا ہے اور تمہیں ہر معاملے میں ، ہر مصیبت سے بچاتے ہوئے امن کی راہوں پر ہاتھ میں ہاتھ پکڑ کر لے کے چلتا ہے اور ساری محنت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہوئی ہے۔ یہ ایک بہت ہی پر لطف بات ہے کہ اگر حضرت محمد رسول الله ﷺ ہم کمزوروں اور گناہ گاروں پر محنت نہ فرماتے تو ممکن نہیں تھا ہمارے لئے ہمیں نصیب نہیں ہو سکتی تھیں وہ امن کی راہیں ممکن نہیں تھا کہ ہم از خود اپنی طاقت سے ان پر چل سکتے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر رسول اللہ ﷺ پر سارا بوجھ ڈال دیا ہے اور یہ بوجھ ڈالنا منفی معنوں میں نہیں ہے بلکہ مثبت معنوں میں ہے فرمایا تم کیا چیز تھے یہ سب کچھ یہی رسول کر رہا ہے تمہارے لئے۔ تم نے صرف حامی بھری ہے اس کے پیچھے چلنے کی اور اسی کی جزا تمہیں عطا کی جارہی ہے۔ گردنوں کے طوق اتارے، خبیث چیزوں پر مطلع کیا، پاک چیزیں سمجھائیں ، ہر قسم کی اچھی اور بری باتیں ان کو بتلائیں اور ان کے بوجھ اتار لئے ۔ یہ بوجھ کیا ہیں اگر آپ ان کو نہیں سمجھیں گے، اگر ان طوقوں پر نظر نہیں رکھیں گے جو آنحضرت ﷺ نے گردنوں سے اتار کر پھینک دئے تھے اور یہ خطرہ محسوس نہیں کریں گے کہ کہیں ہم نے ان بوجھوں کو پھر تو نہیں اٹھا لیا۔ ان گرے پڑے دھتکارے ہوئے بوجھوں کو پھر تو نہیں اٹھا کے اپنے کندھوں پر لگا بیٹھے یا وہ گردن کے طوق پھر تو نہیں پہن لئے جن سے آنحضرت ﷺ نے ہمیں آزادی بخشی تھی۔ پس وہ تمام رسوم، وہ تمام جاہلانہ باتیں، وہ تصورات ، وہ تو ہمات وہ روایتی ایسی بد عادات جو قوموں کے لئے واقعہ ان کے پاؤں کی زنجیریں بن جاتی ہیں یا گردنوں کے طوق بن جاتی ہیں ان کو راہ راست پر ہدایت کے رستوں پر چلنے کی توفیق نہیں رہتی ۔ وہ ساری باتیں ایسی ہیں جن سے آنحضرت ﷺ نے باخبر فرما دیا ہے اور جب تک وہ بوجھ اتارے نہ جائیں، جب تک گردنوں کو طوقوں سے آزاد نہ کیا جائے سُبُلَ السَّلْمِ کی طرف لے جایا جاہی نہیں سکتا۔ اس لئے آخر پر طوقوں کا ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا ہے جب تک تم آزاد نہیں ہو گے تم کیس محمد رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلو گے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تمہیں آزاد کرنے کا بھی ذمہ الله صلى الله