خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد 15 28 خطبہ جمعہ 12 جنوری 1996ء لیتے ہیں۔خود تم پر محنت کریں گے، تمہیں پاک وصاف کریں گے، تمہیں ہلکا کردیں گے تا کہ آسانی سے تم سلامتی کی راہوں پر دوڑ سکو اور پھر تمہاری گردن کے طوق کاٹ کے کہیں گے آؤ اب چلو۔جس طرح ڈرائیور دنیا میں بھی انجن چلا کر بر یک سب سے بعد میں اٹھاتا ہے اور یہی سب سے محفوظ طریق ہے تو جب تک بریکوں سے پاؤں نہ اٹھے آزادی نصیب نہ ہو ، موٹر ہر طرح سے تیار بھی ہو تو چل نہیں سکتی۔تو پہلے اس کا انجن درست کیا ، اس کے اندر ساری خامیوں سے پاک وصاف کیا۔اس کو چلنے کی طاقت بخشی اور پھر گردنوں کے طوق کاٹ کے پھینک دیئے یعنی وہ دنیا کی آلائشیں، وہ دنیا کے تعلقات جو یہ سمجھ آنے کے باوجود کہ یہ اچھی راہ ہے انسان کو اس راہ پر چلنے سے باز رکھتے ہیں۔کیا یہ طوق ہماری گردنوں سے ایک دفعہ جو کاٹ کے پھینک دئے گئے دوبارہ ہماری گردنوں میں آتو نہیں گئے ؟ یہ فیصلہ ہر انسان کے لئے بڑا آسان ہے۔جب بھی اسے برائیوں سے روکا جاتا ہے ، جب بھی اسے نیک باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے تو اس کے دل سے ہمیشہ بلا استثناء ایک آواز اٹھتی ہے۔ایک آواز یہ اٹھتی ہے کہ الحمد للہ میں تو اس معاملے میں تیار بیٹھا ہوں سفر کے لئے سفر پہ روانہ ہونے والا ہوں اور ایک آواز اٹھتی ہے کہ بہت بوجھل تعلیم ہے ، بڑا مشکل کام ہے۔اتنی باتوں پہ کون عمل کر سکتا ہے اور ایسا انسان پھر وہیں بیٹھا کا بیٹھا رہ جاتا ہے۔پھر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو فیصلہ تو یہی دیتے ہیں کہ یہ بہت مشکل تعلیم ہے ہم سُبُلَ السَّلم پر چلنے کے ابھی اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتے مگر بے چین ضرور ہوتے ہیں۔بے قراری دل میں پیدا ہوتی ہے ، اپنے آپ پر حسرت کی نظر ڈالتے ہیں۔کہتے ہیں کاش ہم بھی وہ ہوتے جو اس رسول کے پیچھے سلام کے رستوں پر ہلکے قدموں کے ساتھ پیچھے پیچھے بھاگ رہے ہوتے۔ان کا معاملہ ایسا ہے جن پر اکثر اللہ اپنے رحم کی نظر ڈالتا ہے اور سوائے اس کے کہ خدا کی حکمت کا ملہ سمجھے کہ ان کے اندر بعض ایسی بنیادی کمزوریاں ہیں کہ ہدایت کے لائق نہیں ہیں، رفتہ رفتہ ان کے بھی بوجھ اتار دیئے جاتے ہیں۔مگر یہ بات کہ بوجھ ہم پر ہیں کہ نہیں، یہ بات کہ ہماری گردنیں طوقوں کے اندر جکڑی ہوئی ہیں کہ نہیں ، یہ کوئی ایسی راز کی بات نہیں ہے جس کو سمجھنا بالکل کوئی دور کی بات ہو، بڑے بھاری علم کی ضرورت ہو، یہ تو کھلی کھلی بات ہے۔پس جب بھی خدا اور اس کے رسول کی کوئی آواز آپ کے کانوں میں پڑتی ہے اس وقت آپ کے دل کی کیفیات آپ کو بتا دیتی ہیں کہ کتنا آپ پر بوجھ ہے اور کس حد تک آپ آزاد یا قید