خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 308
خطبات طاہر جلد 15 308 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء وجہ سے چندہ دیتا ہے کہ میں نے اپنے رب کو راضی کرنا ہے چندہ دینے کے بعد مغموم نہیں پائیں گے۔ٹیکس دینے کے بعد تو آپ کئی چہرے دیکھیں گے وہ چہرے اتر گئے مصیبت پڑی۔کیوں جی کیا ہوا؟ آج تو جی بڑی چٹی پڑگئی وہ ٹیکس جو ہم نے اتنی دیر سے چھپایا ہوا تھا وہ نگا ہوگیا پکڑے گئے آج ہمیں دینا پڑا ہے لیکن کبھی کسی چندے دینے والے کو آپ سر پھینک کر چلتے ہوئے مغموم نہیں دیکھیں گے کہ کیوں جی کیا ہوا کہ جی آج اتنا چندہ دنیا پڑا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ، ناممکن ہے۔ہاں ایسے مغموم لوگ ضرور دیکھیں گے جو چندہ نہیں دے سکے اور ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں میں نے خود دیکھے ہیں بارہا دیکھتے ہیں آتے ہیں تھوڑی رقم پیش کرتے ہیں اور اس قدر بے چینی محسوس کرتے ہیں اتنادکھ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں زیادہ کی توفیق نہیں۔ہم چاہتے تھے کہ زیادہ دیں دعا کریں کہ اللہ ہماری حسرتیں پوری کرے۔ایسی دنیا بھی آپ نے کہیں اور دیکھی ہے جو جماعت احمدیہ کی دنیا ہے۔پس یہی وہ مضمون ہے ان کے ہاں تكاثر کی تمنا ہے خدا کی خاطر خرچ کرنے کی خاطر، ان کے ہاں تكاثر کی تمنا ہے تا کہ اپنے غریب رشتے داروں کی ضرورتیں پوری کر سکیں اپنے دکھی ہمسایوں کی ، اپنے بیمار ساتھیوں کے لئے کچھ شفا، کچھ صحت کے لئے ، کچھ ان کے پیٹ بھرنے کے سامان کر سکیں ان کو لگی ہوتی ہے کہ خدا ہمیں اور دے تو ہم اور خرچ کریں اور کئی ایسے ہیں جنہوں نے مجھے دعا کے لئے اس طرح بار ہا لکھا کہ ہمارے دل میں ہر وقت ایک آگ سی سلگتی رہتی ہے کاش ہمیں توفیق ہو تو ہم فلاں غریب رشتے داروں کی مدد کر سکیں، فلاں مصیبت زدہ کی مدد کر سکیں دعا کریں اللہ ہمیں تو فیق دے اور پھر خدا ان کو توفیق دیتا ہے اور وہ خرچ کرتے ہیں اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب : 24 ) یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے اپنے دلوں میں قربانیوں کی راہ میں اپنا جان مال فدا کیا دیکھو کیسے مطمئن ہو گئے۔قَضَى نَحْبَه مدتوں کی آرزوئیں پوری کر لیں۔اورد وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو انتظار میں بیٹھے ہیں کب خدا ہماری حسرتیں پوری کرنے کے سامان کرے گا۔تو دیکھو تَكَاثُرُ تو تَكَاثُر ہی ہے مگر نیتوں نے ان دونوں تکاثر کی قسموں میں کتنا زمین آسمان کا فرق ڈال دیا۔ایک تکاثُر ہے نیک ارادوں کی خاطر، نیک راہوں پر خرچ کرنے کے لئے۔اسی طرح اولاد کا حال ہے۔آنحضرت می