خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد 15 307 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء پہنچتے ہیں ان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ دنیا میں حقیقت وہ انسان کی یا اپنی قوم کی خدمت کرتے ہیں کہ نہیں۔ان کو اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ دنیا ان کو خدمت گار کے طور پر دیکھ رہی ہے کہ نہیں یا ان کی قوم ان کو اپنے خادم کے طور پر اگر دیکھتی نہیں تو کم سے کم دل میں گمان کرتی ہے کہ یہ ہمارے خادم ہیں۔یہ تاثر قائم کرنے پر سارا زور رہتا ہے اور اس سے نیچے اس تاثر کو قائم کرنے کی جہاں تک ٹھوس بنیادوں کا تعلق ہے اس میں ان کو ذرہ بھر بھی دلچسپی نہیں رہتی۔مومن ان چیزوں کے بالکل برعکس ہے۔مومن ان سب اندھیروں سے آزاد ہے۔وہی ہے جو دیکھتا ہے اور وہی ہے جو نیک انجام کو پہنچتا ہے۔وہی ہے جس کی آخرت کی ضمانت دی جاتی ہے۔پس قرآن کریم نے ان تمام انسانی کمزوریوں کا ذکر فرماتے ہوئے انہیں کلیۂ رد نہیں فرمایا کہ ان کے اندر کچھ بھی تمہارے لئے باقی نہیں۔تو اس پہلو کے ساتھ اگر آپ اپنے اعمال کا اپنے نفس کا جائزہ لینا شروع کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا کا نجات دہندہ بنا سکتا ہے اور نجات دہندہ بننے کے لئے پہلے اپنے نفس کو نجات دینی ضروری ہے اور اس کے لئے سب سے اعلیٰ ، سب سے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کی نظر میں رکھیں اور یہ فیصلہ کریں کہ اسی نظر کی ہمارے نزدیک قیمت ہے باقی کسی نظر کی قیمت نہیں۔اس نظر کا عجیب حال ہے بعض دفعہ آپ کو دولت مند دیکھ کر خوش ہو گی بعض دفعہ غریب دیکھ کر خوش ہو گی۔اس لئے اگر اس نظر کو خوش کرنا ہے تو اس کی خاطر غربت اختیار کرنا بھی آپ کے لئے لذت پیدا کرے گا کیونکہ اس کی رضا کے تابع ہے۔پس ایسے انسان کی زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے، اس کی زندگی کے قوانین بدل جاتے ہیں، اس کا اٹھنا بیٹھنا لوگوں میں رہنا سہنا ، ان سے معاملات کرنا، ایک نئے رنگ پر آ جاتا ہے جس کا عام انسانوں سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔اب جن کو تَكَاثُر فِي الْأَمْوَالِ کا جنون ہو وہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اپنے نفس کی پرستش کرنی ہے اور اگر وہ خدا کی پرستش کرنے لگیں تو اسی تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ میں ان کو کوڑی کی بھی دلچسپی نہیں رہتی۔پھر وہ مال جو خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی راہ میں لٹانے میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور جتنا مزہ ایک کمانے والا کما کر اکٹھا کرنے میں محسوس کرتا ہے اس سے بہت زیادہ مزہ خدا کے بعض بندے اس کمائی کو خدا کے بیان کردہ شرائط کے تابع حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ، متوازن طریق پر خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور لذت پاتے ہیں۔کبھی آپ کسی چندہ دینے والے احمدی کو جو اس