خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 306
خطبات طاہر جلد 15 306 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء آخری منزل جہاں دنیا کا سر اپنے سامنے جھکاؤ اپنے اموال کو زیادہ کر کے یا اپنی طاقتوں کو بڑھا کر اس حد تک تمہیں چین نصیب نہیں ہوگا۔ایسے لوگ بعض دفعہ زینت اور تفاخر کے دائروں سے نکل ہی چکے ہوتے ہیں۔بعض آپ سیٹھوں کو دیکھیں گے کہ ان کو قطعاً کوئی ہوش نہیں اپنے کپڑوں کی بلکہ بال بکھیرے ہوئے برے حال میں بٹن کھلے ہوئے وہ تجوریوں پر بیٹھے ہوتے ہیں مگر جانتے ہیں کہ یہ ہے ہماری شان، ہمارے پاس دولت ہے ان لوگوں کے پاس دولت نہیں ہے اور بغیر زینت کے بھی وہ اپنی بڑائی خود محسوس کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی نظر دولت میں مزہ دیکھ رہی ہے۔تو ہر انسان جو معبود بن کر ابھرتا ہے وہ کسی نہ کسی خاص اپنی نفسانی الہی غرض کے ساتھ معبود بنتا ہے۔جس کی نظر زینت پر زیادہ ہے وہ زینت کا معبود، دکھاوے کا بت بن جاتا ہے۔جس کی نظر دوسروں پر اپنی تمدنی برتری حاصل کرنے کا شوق ہے وہ پھر رسم و رواج کے بت کو اپناتا ہے اور رسم و رواج کا خدا بن کر ابھرتا ہے اور آخری صورت اس کی یہ ہے کہ دولت کے سرچشموں پر قبضہ کر لے اور طاقت کے سرچشموں پر قبضہ کر لے جب یہ معبود بن جائے تو دنیا کی ہر دوسری قدر اپنی قیمت کھو دیتی ہے۔کوئی اس راہ میں حائل ہونے کی کوشش کرے گا اس کا سر توڑ دیا جائے گا۔خواہ ان لوگوں کے بچے اغواء کر کے آپ اپنی سیاسی طاقت کو بحال رکھیں، خواہ معصوم آدمیوں کا قتل عام کروا کر اپنا رعب قائم رکھیں کہ ہم ہیں صاحب اولا د ہم جتھے والے لوگ ہیں تم کیا چیز ہو تم ہماری مخالفت کرنے کی جرات کیسے کر سکتے ہو اور پھر اموال کے تمام ذریعوں پر قابض ہونے کے ذریعے، وہ جو سر چشمے ہیں اقتصادی دولت کے ان پر قابض ہونے کے ذریعے وہ اپنی بڑائی کو جاری رکھتے ہیں اور اس کو دائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ خلاصہ ہے ساری انسانی زندگی کا۔اب آپ دوبارہ ان باتوں کو سن کر اور سمجھ کر جب بھی پاکستان کا کوئی اخبار اٹھائیں گے یا ہندوستان کا کوئی اخبار اٹھائیں گے یا دوسرے ملکوں کے اخبار اٹھائیں گے آپ کو ہر جگہ یہی خلاصہ نظر آئے گا۔ساری افراتفری ، سب دوڑ ، سب چکر اسی مرکز کے گرد گھومتے ہیں۔تو تَكَاثُر فِي الْاَمْوَالِ اور تَكَاثُر فِی الْاَوْلَادِ ہے اور ساری دنیا کو مصیبت ، دیکھیں کتنی ڈالی ہوئی ہے اس نے۔تمام دنیا کا امن جہنم میں تبدیل ہو چکا ہے اور وہ لوگ جو دکھاوے کی راہ سے ان چیزوں تک