خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد 15 305 خطبہ جمعہ 19 / اپریل 1996ء زینت سے فائدہ اٹھانا قرآن کریم اس کی اجازت دے رہا ہے اس کی حد بندی کر رہا ہے اس کے اردگرد خطوط کھینچ رہا ہے۔دیکھو تمہارے بچے ہیں جن کے سامنے اچھی دکھا کرو یہ نہیں کہ جھاٹے پھلا کر بچوں کے سامنے آجاؤ اور مارکیٹ میں جانا ہو تو خوب بال سنوار کر بلکہ ابھار کر اور بکھیر کر اس طرح نکلو کہ تمہارے پیچھے ان کی جھالریں لہراتی ہوئی چل رہی ہوں۔یہ غلط طریق ہے۔تم اپنے گھر میں اپنے بچوں کے سامنے پیاری کیوں نہیں بنتیں۔اپنے بھائیوں، اپنی ماؤں، اپنے باپوں کے سامنے کیوں اچھی نہیں بنتیں۔ان کی نظر میں چونکہ پاکیزگی ہے اس لئے جب تک تم ان کے سامنے اچھی نہیں بن سکتیں جب تک تمہاری نظر میں پاکیزگی کی قیمت نہ ہو۔پس زِيْنَةٌ وَتَفَاخُر میں یہ سارے پیغام ہمارے سامنے رکھ دیئے اور امر واقعہ یہ ہے آپ انسانی نفسیات پر غور کر کے دیکھیں کہ انسان کی نیتیں قیمتوں سے طے پاتی ہیں اور انسان کی نظر میں جس چیز کی قیمت ہے وہی فیصلہ کرتی ہے کہ نبیت کیسی ہوگی اور اس نیت کو کس شکل میں عملی دنیا میں ڈھالا جائے گا۔پس اگر نیت میں پاکیزگی نہ ہو تو جہاں پاکیزہ آنکھیں ہیں وہاں دکھانے کا شوق ہی کوئی نہیں رہتا۔اپنی بلا سے ہوں یا نہ ہوں جیسی وہ آنکھیں ہوں ویسی وہ آنکھیں نہ ہوں۔مزہ کیا کہ جو نظر پڑتی ہے، پاکی سے پڑتی ہے ہاں ذرا سا تھوڑا سا ہیجان پیدا ہو جائے ، جہاں نظر میں طلب پیدا ہونی شروع ہو جائے ، جہاں ہمیں محسوس ہو کہ ہماری پوجا کی جارہی ہے۔اب وہ عورتیں جن کے متعلق میں نے کہا ہے بظاہر آپ ان میں کوئی جرم نہیں دیکھیں گے اپنی ذات کی حفاظت کرتی ہیں مگر قرآن کریم نے جو یہ تعریف فرما دی کہ اس نے اپنی ھوی کو اپنا معبود بنا لیا ہے یہ بیماری شروع ہو چکی ہے اور جب تک کوئی نظر عبادت نہیں کرتی اس وقت تک پورا سکون نہیں ملتا اور یہ نظروں کی عبادت کروانا بہت ہی خوفناک اور مہلک بیماریوں پر منتج ہو جایا کرتا ہے اور یہ مرض آگے بڑھتا ہے اور پھر اس کو روکا نہیں جاسکتا۔وہ نسلیں جو دیکھ رہی ہیں کہ ہمارے ماں باپ میں زینت اور تفاخر ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ان قدروں کو اپناتے ہوئے بڑے نہ ہوں۔ان کو اپناتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں، وہی چیزیں ان کے اندر سموئی جاتی ہیں اور پہلے سے زیادہ نشو ونما پاتی ہیں۔یہ صورت حال اگر اسی طرح جاری رہنے دی جائے تو پھر ان چیزوں سے بھی لذت یابی کی طاقت ختم ہونے لگتی ہے۔اس کے بعد دل خشک ہو جاتے ہیں اور خالصہ اپنی بڑائی یعنی معبود ہونے کی