خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد 15 300 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء قرآن کریم نے خوب اس مضمون کو کھولا ہے، بار بار کھولا ہے کہ وہ قو میں جو دوسری قوموں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہیں ان کو عددی قوت میں دلچسپی ہوتی ہے اور اولاد یہاں بمعنی عددی قوت ہے یعنی جسمانی غلبہ جو فوجی غلبہ بھی کہلا سکتا ہے۔بہر حال ایک قوم کو دوسرے پر جو فوجی یا عددی برتری حاصل ہو قرآن کریم نے ایسی قوموں کے حوالے کے ساتھ جن کا ذکر قرآن کریم میں تاریخی طور پر ملتا ہے ہمیشہ ان کی اموال کی کثرت اور اولاد کی کثرت کے طور پر اسے پیش فرماتا ہے۔پس یہ آیت قرآنی محاورہ ہے اور قرآنی محاورے کی مدد ہی سے اس کو حل کیا جاسکتا ہے جو دوسری جگہ کثرت سے کھلے کھلے طریق پر استعمال فرمایا گیا ہے۔تو میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ لہو ولعب جب زینت اور تفاخر میں بدلتے ہیں تو انسان ضرور اپنی توفیق سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس کی غلامی کا یہ پہلا قدم ہے۔پہلا اندھیرا جو اس کی ذات پر چھا جاتا ہے اور اس سے دیکھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔ایسے لوگ جب مجبور ہوتے ہیں تو قرض اٹھاتے ہیں جو جانتے ہیں کہ واپس نہیں کر سکتے۔وہ ایسی تجارتوں کی سکیمیں بناتے ہیں جن میں ہوتا کچھ بھی نہیں ہے اور لوگوں کو دھو کے دے کے ان کے پیسے کھا جاتے ہیں کیونکہ کسی طرح سے اب نفس کی اس حرص کو پورا کرنا ہے اور دوسری شکل اس کی بنتی ہے وہ ہوشیار لوگ جن کو کمانا آتا ہے اور کمانے کے بعد وہ اعلیٰ مقاصد پر خرچ کرنے کی بجائے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور محض دولت میں کسی دوسرے پر فوقیت لے جانا ان کے لئے ایک روحانی یا جو بھی اس کا نام رکھیں ایک قلبی تسکین کا ذریعہ بنتا ہے لیکنی قلبی تسکین کا ذریعہ در حقیقت ان کے لئے دھو کہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ جب تک ایک شخص کا پیسہ دوسرے کے مقابل پر بڑھتا ر ہے اس کو یہ معلوم ہو کہ اب میں ایک ملین سے دوملین میں داخل ہو گی Millionaire کے دائرے سےBillionaire میں داخل ہو گیا تو دائرے جب تک وسیع ہوتے چلے جاتے ہیں کسی حد تک سکون ملتا ہے لیکن جو نہی یہ دائرہ اپنی حد استطاعت پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے وہاں وہ نفس کی بے قراری ، مزید کی طلب، سینے کی آگ کہ میں اور کیا کروں، کس طرح بڑھاؤں اور بڑھانے کی بجائے جب وہ چیز گھٹنی شروع ہو جاتی ہے تو اس کی بالکل وہی مثال ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا فَتَرهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا۔(الحديد :21) وہ چیز جو اس کے سامنے نشو و نما پاتے ہوئے بڑی ہوئی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی اور یوں معلوم