خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 301

خطبات طاہر جلد 15 301 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء ہوا جیسے اب اس کو پھل لگنے کے وقت آگئے ہیں تو پھل کچھ بھی نہیں لگتا۔یہ جو حرص ہے یہ اور بڑھ جاتی ہے۔طلب کی کوئی حد نہیں ہے اور بالآخر ایسے انسان ہمیشہ محروم دنیا سے جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھ آتی کہ ہم کیا کریں۔کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو اپنی دولت کو پھر سیاست پر استعمال کرتے ہیں اور تَكَاثُرُ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَولاد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہاں جا کر یہ دونوں مجرم ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر پھر آگے بڑھنا شروع کرتے ہیں۔یہ جو گٹھ جوڑ ہے سیاست اور دولت کا آج کی دنیا میں تمام ملک جن سے امن اٹھ چکا ہے ان کا آخری نقطہ یہی ہے کہ وہاں دولت نے سیاست سے سمجھوتہ کر لیا ہے یا دولت سیاست کو غلام بنائے ہوئے ہے یا سیاست دولت پر غالب آ گئی ہے اور دولت کھینچنے کا ذریعہ بنا کر حکومت ہو رہی ہے۔جن جن ممالک میں یہ بات ہوئی پھر ان کے سنبھلنے کا بعد میں کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔ہر قسم کی کرپشن، بددیانتیاں اور جرائم پھر بڑی سطح پر وہاں پرورش پاتے ہیں۔اور بدقسمتی ہے اب مغربی دنیا میں جہاں سیاست نسبتا زیادہ صاف اور پاک تھی ، ابھی بھی ہے نسبتا دولت کی آمیزش کے نتیجے میں گندی ہو رہی ہے۔دن بدن یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ سیاست کو دولت کمانے کا ذریعہ کیسے بنایا جائے اور باوجود اس کے کہ یہ لوگ پکڑے بھی جاتے ہیں، عوام کے سامنے ان کو ذلیل اور رسوا بھی کیا جاتا ہے مگر جس نہج پر ایک دفعہ قوم کا مزاج چل پڑے پھر رک نہیں سکتا۔پس تكاثر ایک بیماری ہے یعنی پیسہ بڑھانا ایسی بیماری ہے جو از خود اپنے آپ سے ضرب کھاتی رہتی ہے، سیاسی طاقت بڑھانا ایک ایسی بیماری ہے جو از خود اپنے آپ سے ضرب کھاتی رہتی ہے۔پس تکاثر سے بہتر ا سے پیش نہیں کیا جاسکتا تھا اور قرآن کریم نے تکاثر کے مضمون کو اور جگہ بھی خوب عمدگی سے کھولا ہے اور بعض اور مثالوں کے ساتھ بھی اسے واضح فرمایا ہے اور اس انجام کو ہمارے سامنے ننگا کر کے دکھا دیا ہے۔فرماتا ہے اَلْهُكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَة (التكاثر : 2، 3) که اے انسان! تجھے تو ایک دوسرے سے بڑھنے ، یہاں تَكَاثُر فِي الْأَمْوَالِ نہیں فرمایا۔تَكَاثُرُ اے انسان! تجھے بڑھتے چلے جانے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے یعنی اموال میں اور طاقت میں سبقت لے جانے نے بالکل اندھا کر دیا ہے۔الهی معنی غافل کر دیا یا ہلاک کر دیا دونوں معنی