خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد 15 299 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء پس حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقع پر فرمایا اور کئی دفعہ جو نجی مجالس میں بھی آپ ان باتوں کا ذکر چھیڑا کرتے تھے تو اس میں بھی یہ باتیں آتی رہیں۔آپ نے فرمایا کہ اصل نجات کا راز تحریک جدید کی اس سکیم میں ہے جس کے انیس نکات ہیں۔وہ تحریک جدید کی سکیم ایسی ہے کہ اگر کسی قوم میں رائج ہو جائے تو دنیا کی کوئی قوم بھی وہاں سے مالی فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔جو قوم اپنی زندگی کے رہن سہن کو سادہ اور غریبانہ بنالے، جس کو نہ بدیشی کپڑوں میں دلچسپی رہے، نہ بدیشی زیورات میں دلچسپی رہے، نہ بدیشی کھانوں میں دلچسپی رہے، جن کو روز مرہ کی ساگ اور روٹی گھر میں میسر آ جائے اسی پہ راضی رہیں، جو اپنا کپڑا کا تیں اور اس کھدر پہ راضی رہیں۔جن کو دکھاوے کے لئے کسی سے قرض لینے کی ضرورت نہیں کسی بینک کا محتاج ہونے کی ضرورت نہیں وہاں کا بینکنگ نظام بھی زیادہ دیر نہیں چل سکتا یعنی ان کے خون نہیں چوس سکتا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایسی قوم ہی ہے جو درحقیقت دنیا میں آزادی کے سانس لے سکتی ہے اور غیروں کو اس میں دخل دینے کا کوئی موقع ہی میسر نہیں آ سکتا۔آپ نے فرمایا کہ جرم بھی ان چیزوں کے ساتھ وابستہ ہے۔جتنے جرائم ہیں وہ اخلاقی کمزوریوں سے وابستہ ہیں اور جس قوم کی اخلاقی حالت درست ہو جائے جرائم اس کو اس طرح چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جیسے صحت مند بدن کو جراثیم چھوڑ دیتے ہیں۔موجود ہیں فضا میں وہی سانس ہم سب لے رہے ہیں جو بیمار لوگ بھی لیتے ہیں مگر جراثیم سانس سے اندر جاتے ہیں اور باہر نکل آتے ہیں ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اس بدن میں جو صحت مند ہو۔ہاں جہاں بیماری کے آثار دیکھیں گے وہاں ان کے اڈے بنیں گے وہاں ان کا Foot Hold یعنی قدم جمانے کی جگہ بن جاتی ہے اور پھر آگے وہاں سے وہ باقی علاقوں کی فتوحات کے انتظام کرتے ہیں۔تو حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی گہری فراست کے ساتھ تحریک جدید کو جاری فرمایا تھا تا کہ جماعت کے اندر جو لہو ولعب کی دلچسپیاں ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر ایک دوسرے پر تفاخر ہے ان سے آزادی ملے تو ان قوموں کو جماعت پر حکومت کرنے کا شوق ہی باقی نہیں رہے گا، مصیبت لگے گی ایسی جماعت پر حکومت کرنا جن قوموں کا مقصد تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ہے اور سیاست کا اس سے اعلیٰ نچوڑ دو لفظوں میں بیان ہو ہی نہیں سکتا اموال کی کثرت اور اولاد کی کثرت۔یہاں قرآن کریم کا محاورہ اولاد محض بچوں کے زیادہ پیدا کرنے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ