خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 277
خطبات طاہر جلد 15 277 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء حکم پر رد عمل میں ہمارے سامنے ہے جو قرآن کریم نے محفوظ فرمایا۔حکم ہو اسجدہ کر دو، فرشتوں نے کہا حاضر ہیں ہم سجدہ کرتے ہیں۔یہ نہیں دیکھا کہ یہ کیا چیز ہے ہمارے مقابل پر اس کی کیا حیثیت ہے لیکن تھا ضرور خیال۔اگر خیال بھی نہ ہوتا تو یہ نہ کہتے کہ کیا تو اس کو بنائے گا زمین میں اپنا خلیفہ، اس کو بنائے گا جس سے فساد برپا ہوں گے جس سے خون خرابہ ہوگا، زمین خون سے رنگی جائے گی۔اس لئے یہ غلط بات ہے کہ انہوں نے لاعلمی میں خدا کے حکم کے سامنے سر جھکایا ہے۔علم تھا اور ایسی بات کا علم تھا کہ جو واقعہ ہو کے رہنے والی تھی۔وہ دیکھ رہے تھے کہ آدم کے وجود کے نتیجے میں جب اس کو اختیار ملے گا۔نیک و بد میں فیصلہ کرنے کا ، چاہے تو نیکی اختیار کرے، چاہے تو بدی اختیار کرے تو اپنی سرشت کے اعتبار سے یہ ایسا ہے کہ خود سری بھی کرے گا مخالفتیں بھی ہوں گی آپس میں ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑے اٹھیں گے حسد کار فرما ہو گا۔جو بھی باتیں ہوں اس وجود نے تو ضرور دنگے فساد کرنے ہیں اور خون خوب بہائے گا فساد برپا کرے گا اور خدا کہہ رہا ہے کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔مگر فرشتے جانتے تھے کہ ہم خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اس لئے خدا جس کے سامنے کہے ہم اسی کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔تو کوئی بے وقوفی کا فیصلہ نہیں تھالا علمی کے نتیجے میں، لاعلمی تھی تو عرفان کی کمی کی وجہ سے۔جو عرفان خدا نے ان کو عطا نہیں فرمایا اس کے فقدان کی وجہ سے ان کے دل میں وسوسے پیدا ہوئے مگر ان وسوسوں کے باوجود اطاعت کی ہے اس میں ہمارے لئے بہت بڑا سبق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نفس کے اندھیرے وسوسوں سے پیدا ہوتے ہیں اور وساوس ہی ہیں جو یقین کو شک میں بدل دیتے ہیں۔پس وہ شخص جو اپنے وسوسوں کا شکار نہ ہو اور اس آخری حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے کہ جسے خدا نے مامور بنایا ہے اس کے سامنے میں سر جھکاؤں گا، جسے خدا نے ایک امارت بخشی ہے ایک حکم بخشا ہے میں نے تو خدا کی عبادت کرنی ہے اس بندے کی تو کوئی حیثیت نہیں۔اگر میں نے خدا سے روگردانی کی تو میں کہیں کا بھی نہیں رہوں گا اور جتنا کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو اپنے سے چھوٹا دیکھے اور پھر بھی سر جھکائے اتنی ہی بڑی اس کی عظمت ہے۔وہاں جھکنا عظمت کی دلیل ہے وہاں سراٹھانا ذلت کا نشان ہے۔اب دیکھوفرشتوں کو کیسا مرتبہ اور مقام حاصل ہوا انہوں نے آدم کو ایک معمولی حقیر چیز دیکھتے ہوئے بھی اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ خدا کا حکم تھا اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے ہر الزام سے پاک رکھا لیکن