خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد 15 شیطان نے کیا کہا اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ - 278 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء تو پہلا پردہ جو انسان کو اندھیروں میں مبتلا کرتا ہے وہ انانیت کا پردہ ہے اور یہی اس آیت کی تفسیر ہے۔مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَونہ وہ جو اپنی خواہشات کو، اپنے نفس کو ، اپنے طبعی میلانات کو اپنا معبود بنا بیٹھے وہ مجسم شیطان ہے اور اس کے لئے کوئی روشنی نہیں ہے۔اس کی آنکھیں دیکھتے ہوئے بھی اندھی ہوں گی اس کے کان سنتے ہوئے بھی بہرے ہوں گے اس کا دل ان پیغامات کو آخری صورت میں ترتیب نہیں دے سکتا جس ترتیب کے ساتھ انسان کو خیالات سمجھ آتے ہیں اور حقائق کی پہچان ہوتی ہے، جس ترتیب کے ساتھ ایک پاک دل اپنی شنید کو اور اپنی بصر کے پیغامات کو مرتب کرتا ہے اور نتائج نکالتا ہے۔پس واقعات تو وہی رہتے ہیں جو ہیں، اب ان کو کیسےسمجھنا ہے ان کے کیا نتائج نکالنے ہیں ان باتوں میں فرق ہے۔اب دونوں باتیں درست تھیں جو خدا کے حکم کے بعد فرشتوں کی طرف سے بطور عذر پیش ہوئیں اور شیطان کی طرف سے بطور عذر پیش ہوئیں۔اب یہ بھی ایک بہت دلچسپ حقیقت ہے کہ ایک کو روشنی کیوں قرار دیا دوسری کو اندھیرا کیوں قرار دیا۔ایک روشنی کی راہ میں پردہ نہ بنی اور دوسرا عذر جو فی الواقعہ درست تھا روشنی کے سامنے پردہ بن گئی۔ان دونوں کا اگر آپ تجزیہ کریں اور تفریق کریں تو پھر اس حکمت کی سمجھ آ جاتی ہے پھر اسے اپنے روز مرہ حالات پر آپ چسپاں کریں تو آپ کے لئے ، اپنے لئے روزانہ صحیح فیصلے کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔فرشتوں نے جو کہا تھا کہ فساد کرے گا زمین میں اور خون خرابہ ہو گا یہ ضرور کہا لیکن ہوا بھی ایسا ہی۔جب سے نبوت دنیا میں ظاہر ہوئی ہے نبوت کے انکار کے نتیجے میں فساد برپا ہوئے ہیں اور فساد بر پا کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ نبوت کے دشمنوں کے سر پر رہی۔تو فرشتوں نے بات ٹھیک کی مگر نتیجہ ٹھیک اخذ نہیں کر سکے کیونکہ ان کو ان چیزوں کا علم نہیں تھا جو خدا تعالیٰ نے ابھی ان پر ظاہر نہیں فرمائی تھیں۔اس لئے ان کے اندھیرے لاعلمی کے اندھیرے تھے انا کے اندھیرے نہیں تھے اور لاعلمی کے اندھیرے جب علم آتا ہے تو اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مضمون سکھایا اور سمجھایا کہ دیکھو اصل بات یہ ہے تو انہوں نے کہا پاک ہے تو ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا ، تو ہمیں یہ پہلے بتا دیتا تو ہم یہ بات ہی نہ کرتے۔اب تو نے فرمایا تو بالکل ٹھیک ہے یہی مضمون ہونا چاہئے اور شیطان نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔اب بہتر ہونے کا نتیجہ نکالنے کا اس کا کیا حق تھا