خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 276

خطبات طاہر جلد 15 276 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء کے گمراہ ہو یعنی روشنی ہو تو سہی مگر ایسی روشنی نہ ہو جس سے وہ فائدہ اٹھا سکے اور یہ کس صورت میں ممکن ہے فرمایا خَتَمَ عَلَى سَمْعِہ اس کے کانوں پر بھی مہر کر دے یعنی قوت شنوائی پر وَ قَلْبِہ اور اس کے دل پر بھی مہر لگا دے۔وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشْوَةً اور اس کی آنکھوں پر پردہ تان دے۔یہ اگر صورت پیدا ہو تو روشنی خواہ وہ سمعی روشنی ہو یا بصری روشنی ہو وہ پردوں سے ٹکرا کر نا کام واپس لوٹ جائے گی اور اندھیروں کو روشنی میں تبدیل نہیں کر سکے گی اور یہ جو صورت حال ہے یہ ایک انسان کی اندرونی بیماری سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بیماری باہر سے نہیں آتی کیونکہ خدا نے تو کہیں نہیں فرمایا کہ اپنے نفس کو اپنا معبود بنالو۔اللہ تعالیٰ نے تو بار بار یہی فرمایا اور اسی طرف توجہ دلائی کہ میں ہی تمہارا ایک معبود ہوں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پس وہ شخص جو جان بوجھ کر سنتے ہوئے بھی نہ سنے، دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور خدا کو چھوڑ کر اپنے نفس کی خواہشات کو معبود بنالے اس پر اگر یہ پردے اترتے ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی جبر نہیں ہے ہر انسان کا اپنا اختیار ہے۔اگر خدا کو معبود بنائے گا تو روشنی بغیر تردد کے بغیر روک کے سارے وجود کو روشن کر دے گی اور اگر نہیں بنائے گا، اپنے نفس کو معبود بنائے گا تو وہ پر دے حائل رہیں گے۔یہ پردے کیا ہیں یہ دراصل نفس کی غلط فہمی کے پردے ہیں اور اس غلط فہمی کو سمجھے بغیر آپ ان پر دوں کو اتار نہیں سکتے یا آخری تجزیہ کو اگر پیش نظر رکھیں تو جب تک اپنے نفس کو خدا کے تقاضوں پر ترجیح دیتے رہیں گے یہ پردے آپ کی آنکھوں، آپ کے کانوں، آپ کے دل پر سے اتر نہیں سکتے ، ناممکن ہے۔چنانچہ فرشتوں کی مثال اور شیطان کی مثال نے یہی بات ہم پر کھولی فرشتوں پر کوئی انا کا پردہ نہیں تھا اور شیطان پرانا کا پردہ تھا۔شیطان نے اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھا اور اپنے نفس کو خدا بنالیا اپنی ”ھوی“ کو خدا بنایا ہوا تھا فرشتوں اور شیطان میں یہی فرق ہے۔فرشتوں نے خدا کو خدا بنایا تھا اس لئے جب خدا نے فرمایا کہ اس کو سجدہ کرو تو اس کے سامنے جھک گئے کیونکہ اللہ کا حکم تھا اور معبود خدا تھا۔پس خدا کے حکم کے تابع اگر کسی کی اطاعت کی جائے تو وہ انسان کی اطاعت نہیں ہے وہ اس وجود کی اطاعت نہیں ہے بلکہ اللہ کی اطاعت ہے۔وہ بہتر جانتا ہے کس کے سامنے کس کو جھکا دے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ہمیشہ اس کا اپنا نفس ہوتا ہے جس کو وہ خدا سمجھتا ہے۔اور اس آیت کی تفسیر اور اس کی ساری روئداد آدم کی تخلیق اور فرشتوں اور شیطانوں کے اس