خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 271

خطبات طاہر جلد 15 271 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء سوسال کے واقعات جو گزرنے تھے اور جس کے بعد ایک عجیب انقلاب بر پا ہونا تھا، ان لوگوں نے جی اٹھنا تھا، اس بستی نے دوبارہ زندہ ہو جانا تھا، وہ اسے سمجھائے اور سمجھانے کے بعد پھر یہ غلط فہمی دور کرنے کی خاطر کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھے کہ واقعہ سو سال کے مرے ہوئے جئیں گے۔فرمایا اپنے گدھے کو دیکھ لے اسی طرح کھڑا ہے کچھ بھی نہیں ہوا اس کو۔اپنے کھانے کو دیکھ اگر واقعہ سوسال ہوتے تو سٹرئیس جاتا۔اسی طرح تازہ کا تازہ ہے۔تو جو ہم تجھے سمجھا رہے ہیں یہ تمثیلات ہیں۔یہ مری ہوئی بستی ضرور زندہ ہوگی جیسا کہ تجھے رویا میں دکھایا گیا اور واقعہ یہ ہوا کہ اس واقعہ کے سوسال کے اندر اس عظیم بادشاہ نے جس کے متعلق بائبل میں ذکر ملتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کو دوبارہ زندہ کر دینا تھا جس نے اس اجڑے ہوئے شہر کو آباد کرنا تھا۔خورس بادشاہ تھا جس کا ذکر یسعیاہ میں ملتا ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تم میں سے نہیں ہے مگر میں اس سے کلام کروں گا اور اس کا ملہم ہونا قرار دیا اور یہ بتایا کہ اس کے ذریعے جو اسرائیل کی اجڑی ہوئی رونق ہے وہ دوبارہ قائم کی جائے گی۔بنو کد نضر کے برعکس یہ بادشاہ خدا ترس تھا۔غیر معمولی طور پر بنی نوع انسان کی خیر خواہی کرنے والا تھا۔ایسا بادشاہ تھا جس کی ایسی تعریف مؤرخین نے کی ہے کہ اس کی کوئی مثال کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ایک بادشاہ ہے جس میں ہر پہلو سے وہ تعریف دیکھتے ہیں، ایک بھی گند نہیں نکال سکے۔یہ وہ خورس ہے۔تو خورس نے اس کے سو سال کے بعد اس کو آباد کر دیا اور اس کی کھوئی ہوئی رونقیں واپس آگئی Soloman's Templ دوبارہ بنایا اور بائبل کی از سرنو تدوین ہوئی اس کے نتیجے میں۔خورس کے زیر اثر ایسے اہل ایران کے علماء پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے آپ کو بائبل کے ترجموں کے لئے وقف کیا اور ایسی زبان میں جو فارسی اثر کے تابع Hebrew کے ساتھ مل کر ایک نئی زبان بنی تھی اس میں تراجم کئے گئے ، بہت بڑی خدمت ہوئی ہے۔مگر یہ مرنے کے بعد زندہ ہونے کی بات ہو رہی ہے اور ان معنوں میں خدا زندہ کیا کرتا ہے۔جہاں سب امید میں خطا ہو جائیں کوئی امید کی راہ باقی نہ رہے ایک قوم کے متعلق کہ دیا جائے کہ مرگی ، کھپ گئی ختم ہوگئی ، پھر بھی خدا زندہ کر سکتا ہے اور ایسے معجزے پہلے دکھا چکا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کی امت جس کے نبی کو خدا تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے والا قرار دیتا ہے، جس کی تعریف یہ فرمائی گئی کہ اے دنیا کے مُر دو جب یہ تمہیں اپنی طرف بلائے کہ تمہیں زندہ کرے تو تم