خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد 15 270 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء آج ہمارے اردو کے سوال و جواب کے موقع پر بھی یہی سوال اٹھایا گیا ایک دوست کی طرف سے کہ تبلیغ پہ آپ نے بڑا زور دیا ہے مگر یہ بتائیں کہ جس سے بات کرو جس کو دنیا کی ہوش اور لالچ کے سوا دلچسپی کوئی نہ ہو اس کو کس طرح ہم بلائیں ، کیسے سمجھائیں ، کون سی آواز دیں جو اس کے کانوں کے پردوں کے پار اتر سکے جہاں مہریں لگی ہوئی ہیں۔تو ان کو بھی میں نے ایک جواب دیا۔اب میں اس مضمون کو خاص طور پر اس حوالے کی وجہ سے زیادہ اٹھا رہا ہوں کیونکہ آج صبح کی ابھی چند گھنٹے پہلے کی یہ تازہ تازہ بات ہے۔اس کا اصل علاج دعا ہے۔یا فیصلے میں جلدی سے پہلے آپ غور کریں کہ کیا سارے نور کے رستے بند ہو چکے ہیں یا کچھ کچھ رمق باقی ہے۔اگر رمق باقی ہو تو وہ زندہ ہے مردہ نہیں ہے۔رمق باقی ہو تو اس سے فائدہ اٹھا کر اس کے بچنے کے، اس کی شفا کے سامان کئے جاسکتے ہیں۔پس اول دعا کا ذریعہ ہے اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔جس میں دلچسپی ہو اور اپنوں کا چونکہ زائد حق ہوتا ہے دوہرا تہراحق ہوتا ہے، اپنوں کے لئے خصوصیت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان اندھیروں کی مار سے بچائے کہ روشنی کی کوئی بھی راہ باقی نہ رہے، دیکھتے دیکھتے زندوں سے یہ مردوں میں نکل جائیں اور اگر نکل بھی جائیں تو مایوسی نہیں کرنی چاہئے۔رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُنِي الْمَوْتی کی دعا کو یاد کرو۔یاد کرو کہ کس طرح ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تھی اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کے ہاتھوں یہ معجزہ دکھا دیا۔کس طرح ایک نبی نے ایک اجڑی ہوئی بستی کو دیکھا اور یہی سوال دہرایا کہ اے خدا یہ مرے ہوئے کیسے زندہ ہوں گے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ خدا کے ایک نبی عزرا اس بستی سے گزرے جسے یروشلم کہا جاتا ہے، اس حالت میں گزرے جب کہ ایک بادشاہ نے اسے کلیۂ برباد کر دیا تھا، کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا تھا۔Soloman's Temple بھی Completely Destroy ہو کر یعنی کلیۂ منہدم کر دیا گیا اور ایک ملبے کا ڈھیر بن گیا۔چھتیں گر پڑیں ، کھو کھلی دیوار میں کھڑی تھیں۔اس نے دیکھا اس نے کہا اے خدا تو نے زندہ تو کرنا ہے ان کو ، تیرے وعدے ہیں، مگر کیسے زندہ ہوں گے۔تب اللہ تعالیٰ نے اسے سوسال کی خواب دکھائی اور عجیب لطف کی بات ہے قرآنی فصاحت و بلاغت ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے ایک نہایت شاندار مضمون سے ایک نہایت بد زیب مضمون لوگ نکال لیتے ہیں۔فرمایا خود اسے سوسال کی موت دی، پتا لگے کہ زندہ ہوتے کیسے ہیں سوسال میں اور اس نیند کی حالت میں تمام