خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 272

خطبات طاہر جلد 15 272 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء اٹھ کھڑے ہوا کرو اس کی آواز پر لبیک کہا کرو۔ایسے نبی کی امت کے متعلق جب یہ حالات پیدا ہو جائیں تو ہرگز مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔پس پہلے تو میں آپ کو مغربی دنیا میں تبلیغ کے متعلق توجہ دلاتا ہوں کہ وہاں بھی خواہ کس حال کو یہ لوگ پہنچ چکے ہوں یا درکھیں کہ دعاؤں کی برکت سے مردے پہلے بھی زندہ ہوئے ، آج بھی ہو سکتے ہیں، کل بھی ہوں گے۔اور جہاں تک امت مصطفی ﷺ کا تعلق ہے خواہ وہ نام ہی کی کیوں نہ ہو، منسوب محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ کی طرف ہوتے ہیں ان کے متعلق آج کل یہ عام چر چاہے کہ وہ تو گئے اور احمدی کی بات نہیں غیر احمدی دانشور بڑے بڑے لکھنے لگے ہیں کہ کوئی زندگی کے آثار باقی نہیں رہے، آئے دن ایسے مضامین چھپتے ہیں کیا باقی رہا ہے سوائے نام کے۔ان کے متعلق بھی کسی احمدی کو زیب نہیں دیتا کہ ان سے مایوس ہو جائے اور یہ کہہ دے کہ ان کے دن گنے گئے اور یہ ہمیشہ کے لئے مٹی میں غرق ہو گئے۔اگر بنی اسرائیل کے سوسالہ گڑے مردوں کو خدا اٹھا سکتا ہے، اگر عرب کے مشرکوں کے سینکڑوں سال کے گڑے ہوئے مردوں کو خدا زندہ کر سکتا ہے تو آنحضرت ﷺ سے دعاؤں کے گر سیکھتے ہوئے ،ان کے لئے دعائیں کریں اور بڑے الحاح اور یقین سے دعائیں کریں تو دیکھو یہی جی اٹھیں گے، ان کے کان سنے لگیں گے۔ان کی آنکھیں دیکھنے لگیں گی ، ان کی زبانیں بولنے لگیں گی، ان کے دلوں میں غور و فکر کی صلاحیتیں جاگ اٹھیں گی اور قوم کے دن پھر سکتے ہیں اور پھریں گے انشاء اللہ۔مگر پہلے اپنے دن پھیریں۔اپنی آنکھوں سے ان پر دوں کو دور کریں جن کا ذکر قرآن کریم میں بیان ہوا ہے۔اپنے کانوں سے ان بوجھوں کو نکالیں جو آپ کی سماعت پر بداثر ڈال رہے ہیں اور اپنے دلوں سے ان میلوں کو دھوئیں جو میلیں آپ کے دلوں میں سوچنے اور سمجھنے کی طاقتوں کو مدھم کر دیتی ہیں یا دھندلا دیتی ہیں یا بعض دفعہ ایسا الجھا دیتی ہیں کہ تاریکی ہی تاریکی رہ جاتی ہے، حقیقی سوچ کا مادہ دل سے نکل جاتا ہے۔یہ جو دوسرا حصہ ہے اس آج کے خطبے کا اس کے متعلق میں انشاء اللہ اگلے خطبے میں کچھ مثالیں دے کر آپ پر بات کھولوں گا۔محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ اپنی آنکھوں سے پردے ہٹاؤ، اپنے کانوں سے بوجھ نکالو۔مثالیں دے کر ، روز مرہ کی زندگی کے تجربے آپ کے سامنے رکھ کر بتانا ہوگا کہ یہ بدیاں ہیں جو ہمارے اندر راہ پا رہی ہیں ان سے اپنے آپ کو چھڑا ئیں ورنہ یہ تین قسم کی