خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد 15 مگر اس آیت کو پہلے میں مکمل کرلوں۔صلى الله 248 خطبہ جمعہ 29 مارچ 1996ء إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكَّلِينَ اب محبت کی بات میں نے شروع کی تھی دیکھیں بات بھی محبت پر ہی ختم ہوئی ہے۔رحمت کا مضمون جیسے میں سمجھا تھا اگر وہ درست نہ ہوتا تو آخر پر محبت کہنے کی کیا ضرورت تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ متوکلوں کو خدا ضائع نہیں کرتا۔فرمایا یہ سب تو کل کرنے والے محبت کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔رحمت کے نتیجے میں ان میں یہ صفات پیدا ہوئی ہیں۔رحمت کے نتیجے ہی میں فیصلہ رڈ ہونے کے باوجود ذرا بھی دل پہ میں نہیں آتا۔فیصلے دیئے بہت سوچ بچار کے دیئے بعض دفعہ لمبی لمبی تقریریں کیں اور آخر پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ نہیں یہ درست ہے، مجال ہے جو کسی دل پر میل آگئی ہو۔تو یہ محبت کے رشتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم نے تو کل کیا، محبت کے نتیجے میں سارے تمہارے کا روبار تھے ، میں بتاتا ہوں کہ اللہ متوکلین سے محبت کرتا ہے اور چونکہ تو کل کے امر میں محمد رسول اللہ ﷺ واحد کے طور پر مخاطب ہیں اس لئے متوکلین کہہ کر سب کے لئے خوش خبری تو ہے مگر بطور خاص حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے لئے خوش خبری ہے اے تو کل کرنے والے یا درکھ کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تیرا ساتھ چھوڑ دوں اور تجھ پر دوسروں کو ترجیح دے دوں۔پس یہ وہ اسلامی مجلس شوریٰ ہے جسے ہم نے ورثے میں پایا ہے۔اِن يَنْصُرُكُمُ اللهُ فَلا غَالِبَ لَكُمْ یاد رکھو جب اللہ نے فیصلہ کر لیا تمہاری مدد کا تو کوئی دنیا کی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی۔وَاِنْ يَّخْذُلْكُمُ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُ كُمْ مِنْ بَعْدِ؟ اگر تم نے سب باتیں خدا کی خاطر نہ کیں، تو کل خدا پر نہ رکھا اور خدا نے تمہیں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر کوئی دنیا کی طاقت تمہاری مددگار نہیں بن سکتی۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ وہاں تو کل صیغہ واحد میں محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا یہاں مومنوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اس مثال کے بعد ہو کیسے سکتا ہے کہ خدا کے سوا کسی اور پر تو کل کرو یا خدا پر توکل نہ کرو۔تم نے اپنے سامنے ایک تو کل کرنے والے کا حال دیکھا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اعلان عام فرما دیا کہ اللہ متوکلوں سے محبت کرتا ہے اور محبت کا ثبوت لمحہ لمحہ اس کی زندگی میں تمہارے سامنے ہے۔پس اس سارے ماجرے کے بعد جس کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو خدا تم سے یہی توقع رکھتا ہے۔وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ کہ اللہ ہی پر تمام تو کل کرنے