خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد 15 والے تو کل کریں۔249 خطبہ جمعہ 29 مارچ 1996ء آنحضرت ﷺ کی زندگی میں جو مشوروں کے واقعات ہیں۔ان کی تفصیل میں جانے کا وقت تو نہیں مگر ہر قسم کی مثالیں موجود ہیں۔کہیں آپ نے ایک خاتون سے مشورہ کیا ہے، کہیں چند صحابہ سے مشورہ کیا، کبھی پوری جماعت سے مشورہ کیا ہے۔صلح حدیبیہ کے وقت پوری جماعت سے مشورہ کیا اور پوری جماعت کے فیصلے کو رڈ فرما دیا۔سب نے متفق علیہ یہ فیصلہ کیا اور مشورہ دیا کہ اہل مکہ اجازت دیں یا نہ دیں، تلوار میں چلتی ہیں تو چلیں ، خون بہتا ہے تو ہے لیکن حج کے ارادے سے ہم نکلے ہیں حج کر کے چھوڑیں گے یہ ہمارا مشورہ ہے، یا رسول اللہ ﷺ ! آگے قدم بڑھائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں یہ نہیں ہوگا۔آپ اللہ کی منشاء کو زیادہ سمجھتے تھے۔پس اللہ پر توکل کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ خدا کی منشاء پر نظر رکھا کرو اور جو فیصلہ بھی تم رضائے باری تعالیٰ کی خاطر کرو گے اور انسانی رضا کو چھوڑ دو گے اور اکثریت کو رد کرنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوگے محض اس لئے کہ اللہ کی رضا دوسری طرف ہو تو اللہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور صلح حدیبیہ میں یہ اس کی مثال ہے۔خلفاء کے زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال ہے کہ آنحضور کے وصال کے بعد جب ارتداد کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، اس کا نام طوفان ارتداد ہے مگر دراصل وہ ٹیکس چوری کا مسئلہ تھا۔وہاں التحیات للہ کی بحث نہیں تھی وہاں یہ بحث تھی کہ خدا نے جو سٹیٹ کے لئے اور قومی کاموں کے لئے بطور فرض زکوۃ مقرر کی ہے اس سے وہ انکار کر بیٹھے تھے کہ ہم زکوۃ نہیں دیں گے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع پر ایک حیرت انگیز عزم کا مظاہرہ کیا ہے جو انسانی تاریخ میں انبیاء کے بعد آپ کو اور کہیں دکھائی نہیں دے گا۔اس موقع پر ایک لشکر ایسا تھا جس کی سرداری ایک غلام ابن غلام حضرت اسامہ بن زیڈ کے سپرد کی گئی تھی اور یہ شکر شام کے لئے روانہ ہونے والا تھا اور خود آنحضرت ﷺ نے اس لشکر کا سپہ سالار مقررفرمایا تھا اور اس کی منزل بہت دور تھی۔اتنی دور کہ اگر پیچھے کوئی خطرناک واقعہ ہوتا تو کانوں کان بھی ان کو خبر نہ ہوتی کہ پیچھے کیا ہو گیا ہے، مدد کے لئے واپس لوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔چنانچہ تمام صحابہ نے بالا تفاق حضرت ابو بکر کو یہ مشورہ دیا کہ اس موقع پر نہ بھیجیں بہت خطرناک حالات ہیں، کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے جوان اور آزمودہ سپاہی ہم سے نکل جائیں اور پھر ہم باقیوں