خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد 15 247 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء بعض باتوں پر تمہاری نگاہ نہ پڑی ہو یا بعض باتیں تمہیں معلوم نہ ہوں جو ان کو معلوم ہیں۔اب یاد رکھیں مشوروں میں صرف عقل کام نہیں کیا کرتی علم کا بھی ایک تعلق ہے۔Facts جو Feed کر رہے ہیں ان Facts کے مطابق کمپیوٹر فیصلہ کرتا ہے۔کیسا ہی اعلیٰ کمپیوٹر کیوں نہ ہو اگر اس میں بعض Facts ڈالے ہی نہ گئے ہوں تو بعید نہیں کہ اس کا فیصلہ غلط نکلے۔تو مشورے میں صرف عقل کا مقابلہ نہیں ہے۔مجموعی علم کا بھی سوال اٹھتا ہے اور عالم الغیب چونکہ صرف خدا ہے اور کوئی رسول بھی عالم الغیب نہیں اس لئے تمام وہ اولوالالباب جن کی عقلیں تقویٰ کی وجہ سے صیقل کی جاچکی ہیں اور مختلف زاویوں سے مختلف باتوں کا علم رکھتے ہیں وہ سب جب اکٹھے ہوں گے تو اپنے اپنے علم کو اپنی اپنی عقل کے ساتھ ملا کر کچھ باتیں پیش کریں گے۔صاحب تقویٰ ہیں اس لئے جان بوجھ کر کسی غلط بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اللہ سے محبت رکھتے ہیں ، رسول ﷺ سے محبت رکھتے ہیں، اس لئے جان بوجھ کر ان کو غلط رستے پر چلانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ان حالات میں مجلس شوری بنتی ہے اور مجلس شوری پر عمل ہوتا ہے اور پھر جو بات کی جاتی ہے اس کے بعد جس کو مشورہ دیا جائے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی بات ہو رہی ہے اس وقت فرمایا کہ مشورے کو سننا ہے، فیصلہ تو نے کرنا ہے اور چونکہ بعید نہیں کہ تیرا فیصلہ ان سب سے جدا ہو اس لئے پھر خوف نہیں کرنا کہ اتنی کثرت رائے کو میں نے رد کر دیا ہے تو میرے فیصلے پر عمل کیسے ہوگا، کیسے میں کامیاب ہوں گا۔فرمایا یہ اللہ کی باتیں ہیں، اللہ ہی والی ہے۔فَتَوَكَّلْ عَلَى الله پس فیصلہ کرتے وقت ادنی خیال بھی اکثریت کا یا بندوں کا، اپنے مشیروں کا دل میں نہیں لانا کیونکہ وہ شرک ہے پھر۔فیصلہ چونکہ تو نے اللہ کی خاطر کیا ہے اس لئے تو کل علی اللہ ہی ہو گا اس کے سوا تو تو کل کسی پہ تصور کیا جاہی نہیں سکتا اور تو کل کا مطلب ہے کہ ضرور اللہ تیری مدد فرمائے گا۔اللہ تو کل کرنے والوں کو خالی نہیں چھوڑا کرتا۔تو اس رنگ میں جو بھی فیصلے جماعت احمدیہ کرتی ہے۔چونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں جس زمانے میں جو بھی امیر بنایا گیا ہو اسی کو مشورے پیش ہوں گے اور اس کو یہ اختیار ملتا ہے پھر کہ چاہے تو فیصلے کو قبول کرے چاہے تو رد کر دے اور اگر رد کرے گا تب بھی خدا اس کا سہارا بنے گا۔اگر قبول کرے گا تب بھی تو کل اللہ پر ہو گا ، اکثریت پر نہیں ہو گا۔اس طرح فیصلوں میں وہ برکت پڑتی ہے جس کا دنیا والے تصور بھی نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ کی زندگی سے اس کی بہت سی مثالیں ہیں