خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 233
خطبات طاہر جلد 15 233 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء قوانین، تمام انسانی فطرت کے تقاضے جو تمہیں تہذیب سکھاتے ہیں جو تمہیں بعض مقامات پر رکنے کی تعلیم دیتے ہیں، جو آواز دیتے ہیں کہ اس سے آگے تم نے قدم نہیں رکھنا ہر ایسے موقع پر تمہیں اپنی خواہش کی گردن پر چھری پھیرنی پڑتی ہے۔تب دنیا میں امن قائم ہوتا ہے۔اگر خواہش تمہارا معبود بن گئی تو دنیا کی گردن پر چھری پھیر نی پڑے گی ، دنیا کے حقوق برباد کرنے پڑیں گے تب تم اپنی خواہش کی پیروی کر سکتے ہو ورنہ یہ طاقت تمہیں نصیب ہی نہیں ہوسکتی۔یہ لہو ولعب کے تعلق میں وہ آخری اندھیرا ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے دوسری آیت میں کھول کر بیان فرمایا۔فرمایا اس کو معبود نہ بنا بیٹھنا۔اگر یہ معبود بن جائے گا تو ہر بات جس کی تمہاری فطرت میں طلب ہے وہ جائز رستوں پر نہیں رہے گی۔وہ تمہاری قربانی کے نتیجے میں نہیں بلکہ دنیا کی قربانی کے نتیجے میں زندگی پائے گی، زندگی کا پانی حاصل کرے گی یعنی دوسروں کا خون تمہاری غذا بن جائے گا اور ایسی دنیا بے امن ہو جاتی ہے۔ایسی دنیا میں ہر طرف ایک لاقانونیت کا دور چلتا ہے۔ہر سکون چھینا جاتا ہے۔ہر امن کی پناہ گاہ میں ظالم داخل ہو جاتے ہیں اور ہر گھر میں سند لگ جاتی ہے یعنی ہر گھر میں نقب لگ جاتی ہے اور کوئی گھر ، گھر باقی رہتا ہی نہیں ہے۔یہ آج کا دور جو ہے اس میں لعب ولہو نے بعینہ یہ نقشہ پیدا کر دیا ہے۔پس قرآن کریم نے جو یہ فرمایا کہ خدا کے سوا اگر کوئی اور معبود ہوتے تو دنیا تباہ و برباد ہو جاتی ، فساد برپا ہو جاتا۔وہ ایک دوسرے کی بادشاہی سے چیزیں لے اڑنے کے لئے کوشش کرتے۔یہ ایک پہلو سے اس کی تفصیل ہے۔جب غیر اللہ کی عبادت کرو گے تو سب سے خطر ناک عبادت اپنے نفس کی عبادت ہے۔اپنے نفس کی عبادت کے نتیجے میں جہاں خدا کی ملکیت ہے، جہاں تمہارے ہاتھ روکے گئے ہیں، جہاں تمہارے قدم تھا مے گئے ہیں نہ ہاتھ رکیں گے نہ قدم چلنے سے باز آئیں گے۔اس طرف بڑھیں گے اور وہ جس طرف بڑھیں گے وہ عملاً خدا کی ملکیت ہے مگر عطا اس کے بندوں کو ہوئی ہوتی ہے۔براہ راست خدا سے نہیں کوئی چھین سکتا کچھ۔خدا کی تقسیم میں رخنہ ڈالتا ہے۔جن خدا کے بندوں کو عارضی ملکیت نصیب ہوئی ہے ان کا امن ٹوٹتا ہے اور اس دور میں جیسے شیشے میں تصویر دکھائی دیتی ہے اور شیشہ اس تصویر کو اچھال کر باہر پھینکتا ہے اس طرح سوسائٹی تمہاری تصویر کو اچھال کر تمہارے منہ پر مارے گی۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تم لوگوں کے امن اٹھاؤ، اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے لوگوں کے امن بر باد کرو اور تمہارا امن برباد نہ ہو۔ایسی سوسائٹی میں پھر ہر ایک کا