خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد 15 232 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء تو هوای“ جو ہے یہ دیکھنے میں تو ایک دل کی تمنا تھی اور انسان کہتا ہے کہ کیا حرج ہے کہ انسان اپنی خواہش کو پورا کر لے۔خدا ہی نے تو فطرت میں پیدا کیا ہے اور کئی لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں۔کہتے ہیں عجیب ہے اللہ تعالیٰ ، ایک طرف دل میں طلب رکھ دی ہے کہ یہ بھی لو، وہ بھی لو، یہ بھی مزہ کرو اور جنسی طلب بھی ہے، مال و دولت کی بھی طلب ہے اور فخر و مباہات کی بھی طلب ہے اور دوسری طرف رستے بند کر دیئے ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھے لکھا وہ اپنی طرف سے نفسیات کے ماہر تھے انہوں نے لکھا یہ تو نفسیات کے خلاف بات ہے۔کیا آپ کا مطلب ہے کہ ہر انسان مریض بن جائے۔میں نے کہا آپ کا سوال جو ہے یہاں نہیں ٹھہر رہا آگے بھی چلتا ہے۔آپ جب کسی سٹور میں جاتے ہیں وہاں آپ کو اچھی پیاری پیاری چیزیں ملتی ہیں کیا آپ کے دل میں آرزو نہیں ہوتی کہ اس کو اٹھا لیں۔اٹھاتے کیوں نہیں؟ کیوں نفسیاتی مریض نہیں بن جاتے ؟ کوئی خوب صورت لڑکی دکھائی دیتی ہے دل چاہتا ہے کہ اپنے خاوند کے ساتھ نہ ہو میرے ساتھ چلے کیا کبھی آپ نے جھپٹ کے اس کو کھینچ کر اپنے خاوند سے الگ کیا ہے؟ کسی خوب صورت کوٹھی، کسی محل کو دیکھتے ہیں آپ کا طبعی دل بتائیں چاہتا ہے کہ نہیں ؟ کیا فطرت کی یہ آواز اٹھتی ہے کہ نہیں کہ ہاں کاش یہ میرا ہوتا؟ تو پھر دندناتے ہوئے چلے جائیں کیوں اپنی خواہش کو دباتے ہیں؟ نفسیاتی مریض کیوں نہیں بن گئے ؟ محض جہالت ہے۔نفسیات کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں ماہرین نفسیات نے بڑے بڑے بے ہودہ اور پاگلوں والے نتیجے نکالے ہیں اور اسی کے نتیجے میں آج کل کے اس تعلیمی ماحول پر بہت ہی بداثر پیدا ہوا ہے۔جہاں نیکی کے معاملات ہوں، جہاں خدا کی حدود کی باتیں ہوں وہاں سکول کے بچوں کو کہتے ہیں ہیں ہیں ، تمہیں کیوں روکتے ہیں ماں باپ۔ان کا کیا حق ہے۔تمہاری فطرت کی آواز ہے جاؤ بدمعاشیاں کرو، آوارگی کرو، جو چاہو کرو، کوئی تمہیں روکنے والا نہیں۔جب دنیا کے قوانین کو توڑتے ہیں تو وہاں ان کی پکڑ کے ہاتھ سخت ہو جاتے ہیں۔محض ایک منافقت ہے، ایک دھوکہ ہے اور متاع الغرور میں منافقت کی زندگی بھی داخل ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ھوی کو معبود بناؤ گے تو پھر کوئی حد باقی نہیں رہے گی کیونکہ معبود تک پہنچنے کے لئے رستے میں کوئی قانون حائل نہیں ہوسکتا۔معبود تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے دوڑ و اور اس کی طرف چلے جاؤ۔تو اس کے آخری نتیجے تک تم پہنچو گے۔دنیا تمہاری معبود ہوگی تو رستے کے تمام