خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 213
خطبات طاہر جلد 15 213 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: 32) ہر مسجد میں اپنی زینت لے کے جایا کرو اور زینت کی تعریف اس آیت میں دراصل تقویٰ کی تعریف ہے تو زینت کا تعلق ظاہری زینت سے بھی ہے وہ بھی خدا کی خاطر ہوسکتی ہے، باطنی زینت سے بھی ہے وہ بھی خدا کی خاطر ہو سکتی ہیں اور یہاں زینت حرام نہیں بلکہ مغفرت اور رضا کا نتیجہ پیدا کرنے والی زینت ہے لیکن وہ زینت جس کا دنیا کی آنکھ سے تعلق ہے وہ بھی دیکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوگی اگر وہ پیدا ہوگی تو ضرور تفاخر میں تبدیل ہوگی اور جو تقویٰ کی بچی زینت ہے وہ تفاخر میں تبدیل نہیں ہو سکتی اس کے قدم وہیں رک جاتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ان غیر معمولی انعامات کا ذکر فرمایا جو آپ کی زینت تقوی کے نتیجے میں آپ کو حاصل ہوئے اور ہر بار جب ایک انعام کا ذکر فرماتے تھے تو فرماتے تھے ولا فخر، ولا فخر۔مجھے خدا نے تم سب پر فضیلت دے دی ہے تمام انبیاء پر فضیلت دے دی ہے اولین پر دے دی ہے آخرین پر دے دی ہے و لا فخر کوئی فخر نہیں اس کے باوجود میں تم سے بڑا بنے کی تمنا ہی نہیں رکھتا نہ اس بات کو بیان کر کے تمہارے دل جلانا چاہتا ہوں۔یہاں تک کہ یونس ابن متی پر بھی جب کسی اُن کے ماننے والے نے آنحضرت کے فضیلت دیئے جانے کو پسند نہیں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے صحابی کو روک دیا جس صلى الله نے یہ کہا تھا۔ایک صحابی نے یونس ابن متی کے مرید اُن کے ماننے والوں پر رسول اللہ ﷺ کی فضیلت کا ذکر فرمایا کہ تمہارے نبی سے ہمارا نبی زیادہ افضل ہے۔اس کو تکلیف پہنچی۔یہ جھگڑا جب آنحضرت کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے فرمایا لا تفضلو نی علی یونس ابن متی۔مجھے یونس ابن متی پر کوئی فضیلت نہ دو۔یہ مراد نہیں ہے کہ مجھے فضیلت نہیں ہے۔فضیلت تو اللہ نے دے دی ہے۔خود ذکر بھی فرماتے ہیں۔فرماتے ہیں ولا فخر پس اس حدیث کا حل لافخر کے اندر ہے کہ مجھے فخر کی عادت نہیں ہے۔فخر سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے اور مومن کی زینت کا دوسروں سے تکلیف پہنچانے سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔پس تم مجھے فضیلت نہ دووہاں جہاں یہ فخر کے طور پر دوسروں کو تکلیف دے رہی ہو اور اگر گہری نظر سے مطالعہ کریں تو جب تو میں آپس میں اپنے اپنے انبیاء کے مقابلے کرتی ہیں تو بنیادی طور پر فخر کی خواہش ہی ہے جو ان مقابلوں پر ان کو آمادہ کرتی ہے محض اپنے رسول کی محبت نہیں ہوتی۔بسا اوقات دوسرے کو نیچا دکھانا ہے یہ مضمون ہے جس کے نتیجے میں اپنوں کا ذکر مبالغہ آمیزی کے ساتھ اور دوسروں کی خوبیوں کو گھٹا کے