خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد 15 دکھایا جاتا ہے۔214 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء پس زینت کا بھی تفاخر سے تعلق ہے اور وہ زینت جو دنیا کی زینت ہے اس کے پیٹ سے ضرور تفاخر کا بچہ پیدا ہو گا۔اگر وہ ہو گا تو بڑی بڑی جہالتیں اس سے پیدا ہوں گی۔اب لہو و لعب میں بھی ایک تفاخر ہے روزمرہ کی زندگی کے ایسے کاموں میں جن کا ہر انسان سے تعلق ہے ان میں بھی تفاخر بے وجہ آکر زندگی کو کرکرا کر دیتا ہے۔آپ دیکھیں ہمارے زمینداروں میں شادی کے موقع پر جو دکھاوے کا شوق ہے کتنی مصیبتیں ہیں اس کے نتیجے میں، کتنے گھر برباد ہوتے ہیں اور اتنے اس کے بد اثرات ہیں ہر طرف کہ بعض دفعہ وہ اس بیٹی کا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے جس کو بیاہا جا تا ہے۔اگر اس کے ماں باپ نے جہیز اتنا نہیں دیا جو خاوند کے گھر والوں کی توقع تھی تو وہ صرف یہ نہیں کہتے کہ ہمیں جہیز کیوں کم دیا ہے وہ کہتے ہیں ہماری ناک کٹوادی۔ہم ایسی گھر میں بیاہ کے لائے یہ فقیر نی کچھ بھی اس کے پاس نہیں تھا، جہیز کیا ساتھ آیا تھا جو ہماری عزت سوسائٹی میں ہوتی اور جو اس ڈر کے مارے پھر بیٹیوں کو دیتے ہیں وہ اپنی عزتوں کی ناک کاٹ کر دیتے ہیں منتیں کرتے ہیں ، قرضے مانگتے ہیں ایسے قرضے لے لیتے ہیں جو واپس کر ہی نہیں سکتے اور ساری عمران قرضوں کے بوجھ کے نیچے خود بھی دیتے ہیں اور اپنی عزتیں بھی برباد کراتے ہیں۔قرض خواہ تو پھر کوئی عزت نہیں کرتا کسی کی۔عدالتوں میں گھسیٹے جاتے ہیں گھروں کی قرقیاں بھی ہو جاتی ہیں بعض لوگوں کی ، مگر تفاخر کے نتیجہ میں جو اخراجات ہیں وہ تمام تر وہ ہیں جو بنیادی ضرورتوں سے بالکل بے تعلق ہیں مگر اس کا نمبر دوسرا ہے۔پہلا جو تعلق ہے لعب ولہو ان کا ایک حصہ بنیادی ضرورتوں میں داخل ہے مگر تفاخر جو ہے اس کا کوئی جواز نہیں۔تفاخر کی خاطر قرض اٹھانے ، تفاخر کی خاطر اپنی حیثیت سے بڑھ کر چھلانگ لگانا یہ ایک ایسی مصیبت ہے جو انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور اس کے نتیجے میں گناہ بھی پیدا ہوتے ہیں اور معاشرہ دکھوں سے بھر جاتا ہے۔ایسے خاندانوں کے جھگڑے لڑائیاں، آگے ساس بہو کی آپس کی ایک دوسرے سے بد زبانیاں یہی نہیں بہت سے ایسے مسائل ہیں جو سو سائٹی کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور یہ نفس کے اندھیرے ہیں باہر سے کہیں سے نہیں آئے۔تیسرا جو ہے ذکر وہ فرمایا ہے۔وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ لیکن چونکہ اب وقت ختم ہو گیا ہے میں انشاء اللہ تعالی آئندہ خطبے میں یہاں سے پھر مضمون کولوں گا۔ابھی بہت سا ایسا