خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 212
خطبات طاہر جلد 15 212 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء تفاخر کا مطلب یہ ہے کہ زینت اس غرض سے کی جائے کہ دنیا کو دکھایا جائے اور اپنے بھائیوں کو یا بہنوں کو نیچا دکھایا جائے۔دنیا کو یہ بتایا جائے کہ ہم زیادہ رکھتے ہیں اور دل میں یہ شوق ہو کہ ہمارا بھائی یا ہماری بہن ہم سے نیچے اور چھوٹے دکھائی دیں اور اس مقابلے کا مزہ ہم دیکھیں کہ ہم اونچے ہو گئے۔یہ زینت کے پاگلوں والے شوق کا طبعی نتیجہ ہے ورنہ انبیاء بھی زینت کا خیال رکھتے ہیں اور قرآن کریم فرماتا ہے قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ (الاعراف:33) کون ہے جس نے اللہ کی زینت کو حرام کر دیا ہے وہ زیشنیں یا وہ طیبات جو رزق سے پیدا کیے گئے ہیں۔کون ہے جس نے حرام کیا ہے۔یہ تو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں اور دوسروں کے لئے بھی وہ فائدہ اٹھاتے ہیں مگر آخرت میں ان زمینوں سے، ان طیبات سے دوسرے محروم رہ جائیں گے اور خدا کے نیک بندے یہاں بھی فائدہ اٹھائیں گے وہاں بھی فائدہ اٹھائیں گے۔تو زینت کی بھی دو قسمیں ہیں جیسے لَعِبٌ وَلَهُو کے متعلق میں نے بیان کیا ہے ان کی بھی دو قسمیں ہیں زینت میں ایک زینت ہے جو انسان اس لئے اختیار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صفائی کو پسند فرماتا ہے، نزاکت کو پسند فرماتا ہے ، اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے صاف ستھرے، اچھے ہو کر نکلیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ بھی اپنی زینت کا خیال رکھتے تھے اس زینت میں کوئی اندھیرا نہیں ہے کیونکہ یہ نفس سے نہیں پیدا ہوئی یہ تعلق باللہ سے پیدا ہوئی ہے۔یہ خدا کی رضا کے تابع رہنے کے نتیجے میں اس طرف دیکھنے کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے اور زینت کا دیکھنے سے تعلق ضرور ہے ورنہ اپنی ذات میں زینت کوئی چیز نہیں۔اندھیرے میں بیٹھا ہوا کسی کی بلا سے، وہ اچھا دکھائی دے رہا ہے یا برا دکھائی دے رہا ہے، دکھائی ہی نہیں دے رہا اس کو اس سے کیا غرض۔عورتیں جو گھر میں بیٹھی ہوتی ہیں پتا نہیں ہوتا کہ کوئی آئے گا تو اپنے حال میں اسی طرح رہتی ہیں گندی، یعنی سب نہیں بعض ، کوئی اچانک مہمان آجائے پھر دیکھیں کس طرح دوڑتی ہیں وہ چادر ڈھونڈ نے کیلئے غسل خانے میں جائیں گی وہ منہ پہ چھینٹے ماریں گی صاف ستھری ہو کر نکلنے کی کوشش کریں گی تو زینت کا دیکھنے سے تعلق ہے۔خدا کے پاک بندے انبیاء بھی زینت کرتے ہیں مگر اللہ دیکھ رہا ہے اس لئے زینت کرتے ہیں اور اسی لئے اصل زینت تقویٰ بن گئی۔فرما یا خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ صلى الله