خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 211
خطبات طاہر جلد 15 211 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء کیوں نہیں کرتے کہ جس کے نتیجے میں مزے بھی زیادہ اور پھر مغفرت بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کا مضمون اس تھوڑی سی بھوک سے تعلق رکھتا ہے جو آپ نے خدا کے حکم کے تابع برداشت کی اور آپ سمجھتے ہیں کہ بھوک برداشت ہوئی فورا پتہا چل گیا اس کے بعد کہ یہ تو یونہی دھوکہ تھا۔اصل میں تو کچھ بھی نہیں تھا مجھے تو جتنا کھانا تھا سب مل گیا ہے مزہ بھی پورا ہو گیا ہے بعد کی تسکین بھی مل گئی لیکن وہ تھوڑا سا ٹکڑا ایک آزمائش کا ہلکا سا دور، چونکہ رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں اختیار کیا گیا ، طوعی طور پر اختیار کیا گیا تو اس کے نتیجے میں پھر لامتناہی مغفرت کا مضمون ہے جو آئندہ دنیا میں پیش آئے گا پھر تمنَ اللهِ وَرِضْوَانٌ تو بدیوں کو چھوڑنا اور نیکیوں کی حدود میں محمد ودر ہنا بظاہر ایک قربانی ہے اور بظاہر حد بندی ہے لیکن اگر اس میں رہنے کی عادت ڈالو پھر آنکھیں کھلتی ہیں اور سمجھ آتی ہے کہ کتنی مصیبتوں سے نجات ملی ہے اور نفس کے اندھیرے سے بڑا اور کوئی اندھیر انہیں کیونکہ انسان سمجھ رہا ہوتا ہے کہ مجھے اس میں فائدہ ہے اور فائدہ وائدہ کچھ نہیں۔دوسرا پہلو بیان یہ فرما رہے ہیں وَزِيْنَةٌ وَتَفَاخُرُ بَيْنَكُمْ زینت اور تفاخر کا جو مزہ ہے اس کے مقابل پر محض ایک تصویر ہے اور ٹھوس چیز نہیں ہے۔کھیل بھی ایک ٹھوس چیز ہے جس کا بدن سے تعلق ہے انسان کچھ لذت پاتا بھی ہے پھر کچھ نہیں بھی پاتا۔لہو کا بھی یہی حال ہے کچھ لذت تو پاتا ہے پھر بعد میں کچھ محروم بھی ہو جاتے ہیں بعد میں وہی لذت سزا بھی بن جاتی ہے۔مگر زینت جو ہے وہ صرف دکھاوا ہے یعنی وہ زینت مراد نہیں جس کو قرآن کریم زینت قرار دے رہا ہے۔یہاں منفی معنوں میں زینت کا ذکر پہلے آئے گا جس کو ہم اندھیرا کہتے ہیں وہ زینت ہے کہ صرف دکھاوے کا ہی شوق ہے اور یہ زینت بھی اپنے اندر بڑے اندھیرے رکھتی ہے کیونکہ اس زینت کے ساتھ تفاخر بھی وابستہ ہے۔بعض زیشیں ہیں جو انسان کی اپنی ذات سے وابستہ ہیں۔ایک انسان کو اچھا پہنے کا شوق ہے، خوبصورت بننے کا شوق ہے وہ اچھے کپڑوں پر خرچ کر دے گا اور کچھ کریمیں لگائے گا، چاہے رنگ سفید ہو یا نہ ہو مگر کوشش تو ضرور کرے گا کہ کچھ رنگ میں، سیاہی میں کمی واقع ہو جائے گی۔یہ جو کوششیں ہیں زینت کی یہ نسبتا معصوم ہیں۔اپنی ذات میں بے چارہ کرتا رہتا ہے کسی کو اچھا لگے نہ لگے کم سے کم اپنے آپ کو تو اچھا لگتا ہے مگر جو تفاخر ہے وہ اسی کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے اور اصل ہلاکت جو ہے وہ تفاخر میں ہے۔