خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 210
خطبات طاہر جلد 15 210 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء ایسے ہی بند ہو جاتی ہے۔جو لوگ بھوک کے ساتھ کھانا کھانے کا مزہ جانتے ہیں ان کو پتہ ہے جوں جوں بھوک مٹنے کے قریب پہنچ رہے ہوتے ہیں وہی کھانا جو پہلے بہت مزیدار لگ رہا تھا آہستہ آہستہ کم مزیدار ہوتا چلا جاتا ہے اور آخری لقمے جو وہ لوگ زبر دستی زہر مار کرتے ہیں۔ان میں مزہ وزہ کوئی خاص نہیں ہوتا صرف ایک لالچ ہی ہے۔بھوک ہی میں مزہ ہے طلب میں مزہ ہے طلب نہ رہے تو مزہ بھی مٹ جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے طلب بھی پیدا فرمائی ہے اور مزے لوٹنے کاScientific طریق بھی بیان فرمایا ہے۔فرمایا اس کی حد کے اندر رہنا ورنہ نہ مزہ رہے گا نہ تسکین رہے گی اور مصیبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔اس کے بعد جو اس کے عوارض ہیں وہ جھیلتے جھیلتے عمر کٹ جائے گی۔چنانچہ جتنے بھی عیاشی کے ذریعے ہیں ان سب سے عوارض کا تعلق ہے ، جو ویسے گناہ نہیں کرتا مگر کھانے میں بے اعتدالیاں کرتے ہیں ان کے اپنے عوارض کا اک پورا سیٹ ہے۔ایک فہرست میں بیان کئے جاسکتے ہیں کہ یہ کھاؤ پیو لوگوں کے عوارض ہیں اور وہ تھوڑی سی زندگی عیش کر گئے ، باقی زندگی کھانا سامنے ہے دکھائی دے رہا ہے کھایا ہی نہیں جاتا۔کسی کو شوگر لگ گئی ہے کسی کو اور مصیبت واقع ہو گئی آنکھوں کے سامنے ہے اور کچھ نہیں حاصل کر سکتے کہ نہیں چلو جی منہ میں طاقت نہیں ہے۔کہتے ہیں ہم تو دودھ پینے سے بھی گئے۔ہم تو روٹی چکھنے سے بھی محروم ہو گئے تو پہلے حرکتیں کیوں کی تھیں۔تو جتنی لذت مقدر ہے اس سے آپ ویسے بھی نہیں بچ سکتے جو مرضی کر لیں۔پنجابی میں خوب کہا ہے کہ اس کے دانے مک گئے وہ پنجابی محاورہ ہے وہ ختم ہو گیا ہے اس کے دانے مک گئے ہر انسان کے دانے مقرر ہیں اس سے زیادہ کھا ہی نہیں سکتا جو جلدی کھا لے گا اس کی باقی عمر کم کھانے پہ مجبور کرے گی اس کو اور زیادہ تو فیق ہی نہیں ہو گی تو یہ بھی بے وقوفوں والی بات ہے کہ ہم بے پناہ ، بے حد لذت حاصل کر سکتے ہیں ہم تو محض مجبور لوگ ہیں جتنے خدا نے تقدیر میں مزے لکھے ہیں اس سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتے۔جب بڑھیں گے تو اول تو وہ مزے کر کرے سے ہوں گے اور دوسرے وہ سزا دیں گے پھر۔پھر چوری کے مزے ہوں گے اور چوری کی سزا ملے گی۔ڈاکے کے مزے ہوں گے تو ڈاکے کی سزا ملے گی۔پس ہر قسم کے گناہ گار اپنے گناہوں کی شامت اعمال اس دنیا میں بھی دیکھ لیتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ کھیتیاں ان کے سامنے زرد ہو جاتی ہیں ان میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور حسرتیں باقی رہ جاتی ہیں۔دل چاہتا ہے کہ کچھ حاصل ہو مگر کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔اس کی بجائے وہ و,