خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 14
خطبات طاہر جلد 15 14 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء ویسے الحمد للہ کہ آج تک پاکستان کو یہ جھنڈ ا سب جھنڈوں سے بلند رکھنے کی توفیق مل رہی ہے۔تمام دنیا میں سب سے زیادہ وقف جدید کے میدان میں قربانی کرنے کی پاکستان کی جماعتوں کو توفیق ملی ہے۔پیچھے سے بہت آگے بڑھنے والی جماعتوں میں سے امریکہ اب نمبر دو پر آ گیا ہے۔پاکستان کے بعد ان کا نمبر دو ہے لیکن فرق اب تھوڑا رہ گیا ہے۔اس لئے بعید نہیں کہ اگلے سال یہ اپنی خواہش کے مطابق دنیا کی وقف جدید کی قربانی میں نمبر ایک جماعت بن جائیں ، جرمنی سب چندوں میں اللہ کے فضل سے اچھا اور مخلص اور متوازن قربانیاں کرنے والا ہے۔وقف جدید میں جرمنی کی پوزیشن نمبر تین ہے اور اب آپ انتظار کر رہے ہوں گے کہ برطانیہ کی باری آجائے گی۔میں بھی یہاں رہتا ہوں آج کل لیکن افسوس کہ کینیڈا نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا حالانکہ کینیڈا باقی چندوں کے لحاظ سے ان سے پیچھے ہے۔اس کی مالی استطاعت جماعت برطانیہ کی مالی استطاعت سے کم ہے مگر اس کو خدا نے توفیق بخش دی کہ کینیڈا کے بتیس ہزار پاؤنڈ کے مقابل پر برطانیہ کی طرف سے چھبیس ہزار پاؤنڈ پیش ہوئے ہیں اور خطر ناک بات یہ ہے کہ انڈیا چھٹے نمبر پر آ کر اکیس ہزار نو سوتریسٹھ پاؤنڈ کی قربانی پیش کر رہا ہے جب کہ اس سے پہلے چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوا کرتی تھی۔اب ہندوستان اور برطانیہ کے اقتصادی حالات کا موازنہ بھی کریں اور احمدیوں کی تعداد کا بھی موازنہ کریں اور پھر ان کو ملا کر دیکھیں تو پھر صحیح تصویر سامنے آئے گی۔تعداد کے لحاظ سے اس وقت ہندوستان کی تعداد جو میں نے اندازہ لگایا ہے وہ تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔یعنی اگر ایک احمدی یہاں ہے تو سات احمدی وہاں ہیں اور جو بہت سے نو مبائعین اب آرہے ہیں ان کو میں شمار نہیں کر رہا کیونکہ ابھی ہم نے ان کو سنبھالا نہیں ہے۔پچاس ہزار جو گزشتہ سال آئے تھے ان کو تو فوراً اس میدان میں نہیں جھونک سکتے کیونکہ ان کی تربیت پہ ابھی کچھ وقت لگے گا۔وہ احمدی جو ستحکم ہوچکے ہیں ان میں سے اکثر چندہ دہندگان نکلے ہیں جو پرانے احمدی تھے اور اس طرح نسبت ایک اور سات کی ہے۔یعنی ان کو عددی فوقیت آپ پر سات گنا کی ہے لیکن اقتصادی نقطہ نگاہ سے اگر دیکھیں تو آپ کو ان کے مقابل پر فی آدمی بارہ گنازیادہ آمد ہوتی ہے اور یہ ایک محفوظ اندازہ لگایا گیا ہے جو یونائیٹڈ نیشنز کے چھپے ہوئے اعداد و شمار سے نکالا ہے۔کچھ عرصہ پہلے رفیق چانن صاحب نے جو اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں مجھے یہ رسالہ بھیجا جو تازہ چھپ کے آیا تھا اور کہا کہ آپ نے چندوں کے موازنے کرنے ہوتے ہیں تو اس پہلو کو