خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 15
خطبات طاہر جلد 15 15 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء بھی مد نظر رکھ لیا کریں کہ کسی قوم میں مالی استطاعت کیا ہے اور اقتصادی حالت کیسی ہے۔تو جواب تو ان کو یہی دیا تھا یا ابھی لکھوانا ہے کہ واقعہ یہ ہے کہ یہ باتیں تو ہم اقتصادی جائزوں کے طور پر پیش کر ہی نہیں رہے۔یہ تو ذریعے ہیں ایک دوسرے سے مقابلہ پیدا کرنے کے ، فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرہ:149) کے بہانے ملتے ہیں اور اللہ کے فضل سے یہ باتیں کام کر بھی رہیں ہیں۔اگر میں اقتصادی گہرائیوں میں اتر کر یہ موازنے شروع کر دوں کہ دراصل کیا بات ہے، اصل میں کون آگے ہے تو یہ سارا لطف بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا اور ان باتوں کی اکثر سمجھ بھی نہیں کسی کو آنی تو اس لئے مجھے چلنے دیں اسی طریقے سے۔جماعت کو ضرورت ہے اچھی باتوں کی تحریص کی اور تحریک اسی غرض سے کی جاتی ہے اس لئے آپ اپنے نقطہ نظر سے جو مرضی سمجھیں مگر جس انداز سے مجھے خدا کے فضل سے جماعت کے دلوں میں ایک ہلچل پیدا کرنے کی توفیق مل جاتی ہے وہی میرا مقصد ہے اور وہ پورا ہورہا ہے مگر بہر حال انہوں نے چونکہ بھیجا تھا اس لئے میں نے کہا استعمال ضرور کرنا ہے کیونکہ ان کا پہلا وار ہے وہ خالی نہیں جانا چاہئے۔چنانچہ میں نے اس کو استعمال کیا۔اب اسی کی رو سے میں آپ کو یہ مواز نہ بتا رہا ہوں کہ ہندوستان کی مالی استطاعت اگر دہلی کا لندن سے مقابلہ کیا جائے تو ایک اور بارہ کی نسبت ہے۔ہندوستان اگر ایک روپیہ کماتا ہے تو انگلستان بارہ روپے کماتا ہے۔تعداد دیکھی جائے تو آپ کے چندہ دہندگان کے مقابل پر ان کی تعداد سات گنا ہے اور اس پہلو سے اس موازنے کے بعد آپ کو ان سے بہت زیادہ آگے ہونا چاہئے لیکن وہ آپ کے قریب پہنچ گئے ہیں اور بعید نہیں کہ اگلے سال یا اس سے اگلے سال آپ کو پیچھے چھوڑ جائیں۔اس لئے پتا نہیں میں نے یہ کہہ کر آپ کے دلوں کو ہلایا ہے یا آپ الحمد للہ کر کے بیٹھ گئے ہیں کہ چلو اچھا ہوا ہمارے بھائی کو فوقیت مل گئی۔جہاں مقابلے ہوں وہاں بھائی نہیں دیکھے جاتے۔قرآن کریم فرماتا ہے: وَلِكُلِّ وجْهَةٌ هُوَ مُوَ لَيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ بھائی بھائی بنا دیا ہے تمہیں لیکن مقابلہ پھر بھی کروانا ہے اور وہ مقابلہ یہ ہے کہ تمہارے لئے ہم نے یہ مح نظر بنا دیا ہے کہ نیکیوں میں ضرور ایک دوسرے سے آگے بڑھو گے۔اس لئے جب نیکیوں میں مقابلہ ہو پھر بھائی بھائی نہیں دیکھنا پھر ضرور آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔سوئٹزر لینڈ کا نمبر سات ہے اور سوئٹزر لینڈ اس پہلو سے مالی اقتصادی حیثیت کے لحاظ سے