خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 13
خطبات طاہر جلد 15 13 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء میں حصہ لیا تھا۔ایک لاکھ اکانوے ہزار تین سو چوہتر۔سال 1995 ء میں دو لاکھ دس ہزار چھ سو بیالیس افراد نے مخلصین نے وقف جدید کے چندے میں حصہ لیا۔جہاں تک امریکہ کی غیر معمولی خدمات کا اور سبقت کے جوش کا تعلق ہے میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ امریکہ نے ایک فیصلہ کیا میں جب وہاں گیا تو ایم ایم احمد نے مجھ سے بات کی جو امیر ہیں امریکہ کے کہ ہم نے غور کیا آپس میں کہ جب بھی کسی ملک کے سبقت لے جانے کا ذکر ملتا ہے تو ہمارے دل میں بڑی ایک قسم کی بے چینی سی پیدا ہو جاتی ہے ، جہاں خوشی ہوتی ہے وہاں بے چینی بھی کہ کاش کسی مد میں تو ہماری سبقت کا بھی ذکر آئے تو بہت غور کے بعد ہم نے سمجھا کہ دوسرے بڑے بڑے چندوں میں تو ہم اپنی تعداد اور حالات کے لحاظ سے دنیا کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتے تو وقف جدید کے چندے کو اپنے لئے خاص طمح نظر بنا لیں اور یہ فیصلہ کریں کہ سارے مل کر وقف جدید میں بہر حال سب دنیا کی جماعتوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔اس وعدے کو وہ پھر سال بہ سال پورا کرتے رہے اور مسلسل ان کا قدم ترقی کی طرف بڑھا ہے۔چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ اس وقت دنیا بھر کی جماعتوں میں پاکستان کے سوا باقی سب جماعتوں سے امریکہ کی جماعت آگے بڑھ گئی ہے۔جو چندوں کے لحاظ سے بھی آگے بڑھ گئی ہے، وعدوں کے مقابل پر وصولی حاصل کرنے کی رفتار میں بھی آگے بڑھ گئی ہے اور تعداد چندہ دہندگان بڑھانے میں بھی آگے بڑھ گئی ہے۔امریکہ کا 1995 ء والے سال کا وعدہ ایک لاکھ ستر ہزار ڈالر تھا اور بڑی خوشی سے مجھے فون پر بتایا گیا ہے کہ ہم نے بڑی چھلانگ لگائی ہے اور اس دفعہ وعدہ ایک لاکھ ستر ہزار ڈالر کا ہے۔وصولی پتا ہے کتنی ہوئی ہے، دولاکھ نوے ہزار ڈالر۔مجھے انہوں نے بتایا خودان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ عجیب بات ہے، اللہ کی شان کہ ہم ایک لاکھ ستر کو زیادہ سمجھ رہے تھے اور خدا نے ایسا ولولہ پیدا کر دیا ہے دلوں میں کہ وصولی کی جو آخری خبر موصول ہوئی ہے وہ دولاکھ نوے ہزار ڈالر کی ہے اور چندہ دہندگان کے اعتبار سے بھی ماشاء اللہ گزشتہ سال کے مقابل پر (49) اُنچاس فی صد اضافہ ہوا ہے اور وہی اضافہ غالباً اس وصولی پر بھی اثر انداز ہوا ہے کیونکہ جن کو بعد میں انہوں نے چندہ دہندہ بنایا ہے ان کا پہلے وعدوں میں نام نہیں آیا ہو گا۔ظاہر بات ہے۔تو اس کی وجہ سے ان کی وصولی کی پھر رفتار خدا کے فضل سے یا وصولی کی نسبت خدا کے فضل سے بڑھ گئی۔