خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 193

خطبات طاہر جلد 15 193 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء سے زیادہ لاعلاج ہے۔اس کے علاوہ دوسری بیماریاں ہیں جو بیرونی اثرات کے نتیجے میں اندھیرے پیدا کرتی ہیں۔ان کے تعلق میں قرآن کریم کی اس سے اگلی آیت روشنی ڈال رہی ہے جہاں تک من شرور انفسنا کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں یہ آیت ان سارے مضامین پر حاوی ہے۔ایک شخص کسی اور کا نہ محتاج ہے نہ کچھ، اپناہی نفس اس کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے اور کسی غیر کے دھوکے کا اس میں دخل نہیں ہے۔اب یہ دیکھیں مضمون بالکل واضح ہے اس کا سراب کو دیکھنا اس لئے نہیں ہے کہ بادل آئے ہوئے ہیں۔اس کا سراب کو دیکھنا اس لئے نہیں ہے کہ اندھیرا ہے رات ہوگئی ہے۔رات ہوگئی تو سراب نہیں دکھائی دے گا، بادل آئے ہوں گے تو سراب نہیں دکھائی دے گا۔پس روشنی میں اندھیرا یہ بہت خطرناک ظلم ہے اور اس میں غیر کی محتاجی ہی کوئی نہیں کسی باہر سے آنے والے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ آپ کو اشارہ کر کے بتائے دیکھو وہ پانی ہے اور وہ پانی نہ نکلے آپ کا نفس ہی کافی ہے اس دھو کے کے لئے۔اگلی جو آیت ہے اس میں بیرونی محرکات کا اور بیرونی پردوں کا ذکر ہے جو ایک انسان پر بعض دفعہ ایک بعض دفعہ دو، بعض دفعہ تین تین اندھیرے ، بعض دفعہ ظلمات کی کئی کئی قسمیں وارد کر دیتے ہیں اور ایسے شخص کا سفر بھی اندھیروں کا رہتا ہے مگر اندھیرا سمجھتے ہوئے دھکے کھاتا پھرتا ہے کہیں اس کو نور کی راہ نہیں ملتی۔اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اگلی آیت فرماتی ہے۔اَو كَظُلُمتِ فِي بَحْرِتُى يَخْشُهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ یا اس کی مثال ایسی ظلمتوں کی سی ہے فِي بَحْرِن جی جو بہت ہی گہرے اور بھر پورسمندر میں واقع ہوتی ہیں۔اب یہاں نجی کہنے کی کیا ضرورت تھی۔سب سے پہلے تو اس پر غور کریں۔سمندر کے اندر جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ یہ ہے فِي بَحْرِلٌ غِى يَغْشَهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابُ ایسے اندھیرے کہ ایک موج کے بعد دوسری موج نے ڈھانپا ہوا ہو اور اس کے اوپر بھی سورج دکھائی نہ دے۔سَحَاب دن بھی اندھیرا جہاں سورج کی روشنی کی راہ میں بادل حائل ہو گیا ہو اور پھر موج در موج وہ انسان ہو، اسے اس کے علاوہ نجی سے کیا فرق پڑے گا۔سمندر گہرا ہو یا کم گہرا ہو لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ سمندر سب سے زیادہ روشنی کو کاٹنے والا ہوتا ہے اور جتنا گہرا ہوتا جائے اتنا اندھیرا ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ گہرے سمندروں میں کوئی نور کا اشارہ بھی نشان دکھائی