خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 192

خطبات طاہر جلد 15 192 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء دراصل یہ ایک اور اندھیرے کی طرف قدم ہوگا۔پس یہ سراب کی جو مثال قرآن کریم نے پیش کی ہے اس پر آپ جتنا غور کرتے چلے جائیں اور نئے نئے پہلو اس کے نکلتے آئیں گے۔ابھی کچھ عرصہ پہلے یہیں واقعہ ہوا ہے ویسے تو مخلص نوجوان ہے وہ لڑکا لیکن اسے ایک تجربہ کار نے یہ نصیحت کی کہ فلاں انٹرویو کے لئے جارہے ہو یہ بات نہ صحیح بتا دینا۔ہر سچ بولنا یہ نہ کہہ دینا ورنہ وہ تمہیں رد کر دیں گے۔یہ بات جو کمزوری ہے، پتا لگ گئی تو ضرور رد کر دیں گے۔چنانچہ اس بے وقوف نے بجائے اس کے کہ مجھ سے بات کرتا آنکھیں بند کر کے وہ بات مان لی اور ساری باتیں سچی کہیں وہی ایک جھوٹ بولا۔اس کی نوکری کی درخواست صرف اس وجہ سے رد ہوئی کہ تم نے وہ جھوٹ بولا ہے اس لئے ہم رد کرتے ہیں۔بعد میں بے چارہ سر جھکا کے آیا کہ جی یہ غلطی ہوگئی ہے۔میں نے کہا جھوٹ تو ہے ہی غلطی۔تمہیں اس گند پہ منہ مارنا ہی نہیں چاہئے تھا۔زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ نا کام ہوتے مگر یہ تو خوشی ہوتی کہ شیطان کے ہاتھوں سے نہیں کھا یا خدائے واحد و یگانہ کے ہاتھ سے ملا ہے جو بھی ملا ہے۔پس روشنی سمجھتے ہوئے جو اندھیروں کا سفر ہے وہ سب سے خطرناک ہے۔ہم جانتے ہیں ہمارے کیا مفادات ہیں ، عدالتوں میں لوگ جھوٹ بولتے ہیں تو اسی روشنی میں جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔اگر وہ سیاست میں جھوٹ بول رہے ہیں یا دھو کے دے رہے ہیں یا مذ ہب میں جھوٹ بول رہے ہیں یا دھو کے دے رہے ہیں۔یہ سارے سفر سراب کے سفر ہیں۔ایک مقصد لے کر نکلے ہیں اس پیاس بجھانے کی خاطر ہر ظلم کو قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری حساب نہی تو مکمل ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وقتا فوقتا تمہیں اس کے مزے چکھائے جائیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بالآخر اگر وہ شخص ایسا ظالم ہو کہ اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہو کہ کوئی تنبیہ کام آہی نہیں سکتی کوئی امکان ہی نہیں ہے ضروری نہیں کہ اس کو ضرور پہلے قارعہ ہی نصیب ہو۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی شخص اپنے اندر کیسی تاریکی رکھتا ہے تو ایسے شخص کو پھر مسلسل اسی طرف بڑھنے دیا جاتا ہے جس طرف وہ اپنی ہلاکت کے آخری کنارے کی طرف جارہا ہے۔سب سے زیادہ استغفار کا یہ موقع ہے کہ اللہ ہمیں نفس کے ایسے دھوکے سے بچائے کہ جب اندھیرے کو روشنی دیکھنے لگیں اور روشنی کو اندھیرا دیکھنے لگیں۔یہ بیماری سب سے خطر ناک اور سب