خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 172

خطبات طاہر جلد 15 172 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء اور اطمینان بخشتا ہے۔اس نور کی ہر ایک نجات کے خواہش مند کوضرورت ہے۔“ فرمایا کوئی بھی نجات کا خواہش مند ایسا نہیں جو اس نور کے بغیر گزارہ کر سکے اور یہ نور ہر ایک کو عطا ہوسکتا ہے مگر اس دور میں وساطت حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے بغیر نہیں عطا ہو سکتا۔کیونکہ جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب سے بھی نجات دو نہیں۔جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔خدا کا قول ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ آغمی (بنی اسرائیل:73)۔یعنی اس کا مطلب ہے جو کوئی بھی اس دنیا کی زندگی میں اندھا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی اٹھایا جائے گا۔اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ میں اپنے ڈھونڈنے والوں کے دل نشانوں سے منور کروں گا۔“ پس وحی اگر انبیاء کے لئے مخصوص ہے تو وحی و رسالت ہے جس کی بات حضرت مسیح موعود فرمارہے ہیں۔دوسری وحی کی بہت سی اقسام ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہم سب کو نصیب ہو سکتی ہیں بلکہ ہوتی ہیں اور اپنے ساتھ نشانات لے کر آتی ہیں اور ان کے بغیر ہمیں نور کو آگے پہنچانے کا حق ہی نہیں ملتا اذن ہی نصیب نہیں ہوتا۔تو بغیر اذن کے تبلیغ کرو گے تو اندھیروں سے اندھیروں کی طرف ہی بلاؤ گے کوئی بھی اس کا فائدہ نہیں ہے اور تمہاری تبلیغ میں برکت بھی کوئی نہیں ہوگی۔جو لوگ پیدا ہوں گے وہ ویسے ہی اندھیرے ہوں گے جیسے پہلے تھے۔پس وہ لوگ جو تعداد کی خاطر تبلیغ کرتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے دنیا کو کوئی بھی فیض نہیں پہنچایا۔جیسے سیاہ بخت پہلے تھے وہ لوگ ویسے ہی سیاہ بخت بعد میں رہے، نام بدل گئے۔کسی کو آپ نے غیر احمدی مسلمان سے احمدی مسلمان کہہ دیا کسی کو عیسائی سے مسلمان بنا دیا، کسی کو بت پرست سے اسلام کے دائرے میں لے آئے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نتیجے میں ان کو کوئی ایسی روشنی نصیب ہوئی ہے جو پہلے نہیں تھی۔اگر ہوئی ہے اور وہ وہ روشنی ہے جو آپ نے فیضان محمد ﷺ سے پائی تھی یہ تو پھر ان کو زندہ کرنے کے سامان پیدا کر دیئے۔پھر وہ نورجیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس میں پھر