خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 173

خطبات طاہر جلد 15 173 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء طاقت ہے کہ آگے نشو و نما پائے مگر اس کا پہلا بیج بویا جانا لازم ہے اس کے بغیر از خود کوئی شخص اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر نہیں کر سکتا۔پھر فرماتے ہیں۔”یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے، يعنى فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ آغمی کی تشریح میں فرماتے ہیں: اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ میں اپنے ڈھونڈنے والوں کے دل نشانوں سے منور کروں گا۔“ یہاں انبیاء کی کوئی شرط نہیں ہے۔”یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اور میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا یہاں تک کہ سب عظمتیں ان کی نگاہ میں بیچ ہو جائیں گی ی بھی ایک بہت اہم نکتہ ہے جس کا دعوت الی اللہ سے تعلق ہے وہ یہ ہے جن کی نظر میں خدا کے سوا اور عظمتیں ہیں ان کو وہ جرات اور وہ سر بلندی نصیب ہی نہیں ہوتی جو خدا کی طرف سے نمائندہ بن کر کلام کرنے والے کو ہوتی ہے۔کئی بار میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ تعالیٰ کی مثال دے چکا ہوں جن کا اسی مسجد فضل سے تعلق تھا جن کی ابتدائی کوششوں کے نتیجے میں یہ جگہ خریدی گئی ہے۔حضرت مصلح موعود یہ جاننے کے باوجود کہ آپ کو اپنے کپڑوں کی ہوش نہیں ، جوتوں کی ہوش نہیں اور اپنی چیزیں جگہ جگہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں جب گورنر وغیرہ یا بڑی بڑی دنیاوی شخصیتوں کو کوئی پیغام دینا ہوتا تو چوہدری فتح محمد صاحب کو ہی بھجوایا کرتے تھے بلکہ بسا اوقات آپ کو بھجوایا ایک معین پیغام دے کر۔اب کسی نے یہ دیکھا کہ چوہدری صاحب تو بالکل سادہ سے آدمی ہیں بعض دفعہ جاتے ہیں تو اپنے بچے کی چھوٹی شلوار پہن کر باہر نکل جاتے ہیں جو گھٹنے تک رہتی ہے صرف اور کوئی ہوش نہیں کہ میں نے کیا پہنا ہوا ہے یہ جب گورنر سے ملتے ہوں گے جاکے، تو پتا نہیں ان کے دل کا کیا حال ہوتا ہو گا، کس طرح یہ کانپتے ہوں گے اس کے سامنے ، تو اس نے سوال کیا کہ آپ جاتے ہیں تو آپ کو کیا لگتا ہے بتا ئیں تو سہی۔تو انہوں نے کہا لگتا کیا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ میرے سامنے پنجابی میں کہا ”کوئی چڑی دا بوٹ پیا ہوئے کہتے ہیں میں خدا کا نمائندہ ، وہ دنیا کا نمائندہ مجھے کیا لگنا ہے اس کے سوا جیسے