خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 171

خطبات طاہر جلد 15 جیسا کہ فرمایا ہے۔171 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء اور یہ امر واقعہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے نور سے باشعور طور پر، آنکھیں کھول کر تعلق باندھتے ہیں اور اپنے اندر اس کی گرمی محسوس کرتے ہیں ان کی باتوں میں ایک ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ سنتے ہیں اور مانتے ہیں اور بعض دفعہ بڑے بڑے سرکش بھی اپنی گردنیں ان کی آواز کے سامنے جھکانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔حالانکہ وہی دلائل جب کوئی دوسرا شخص دیتا ہے تو ان کے دل پر کوئی اثر نہیں کرتے پس یہ نور کی صفت ہے اور اس نور کی صفت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اذن کے مقام پر فائز فرمایا ہے اور وہ سب سے اعلیٰ درجے کا نور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا نور ہے جو سراجاً منیر ابن کے چمکا۔پس آج اگر کسی احمدی نے دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنا ہے تو اس نور سے فیضیاب ہوئے بغیر وہ ہرگز اس حق کو ادا نہیں کر سکتا۔وہ نور ہے جو اپنے دلوں میں سمانا پڑے گا۔اس کی کچھ روشنی اپنے اخلاق میں ڈال کر اپنے اخلاق کو جگمگانا پڑے گا۔جتنی جتنی روشنی تم پاؤ گے اتنا ہی تم صاحب نور ہوتے چلے جاؤ گے اتنا ہی تم خدا کی طرف بلانے کے حق دار بنتے چلے جاؤ گے ورنہ تمہیں یہ حق نصیب نہیں ہوگا۔فرماتے ہیں در حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جو تسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اترتا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے“۔پس ایک طرف فرمایا کہ وحی صرف ان کے لئے ہے جن کو انبیاء کا مقام عطا کیا گیا ہے، زمرہ انبیاء کہا جاتا ہے۔دوسری طرف تعلق باللہ کی نفی نہیں فرمائی گئی ، الہام کی نفی نہیں فرمائی گئی ، اس وحی کی نفی نہیں فرمائی گئی جو وحی نبوت سے علاوہ ہے۔پس بالکل یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ باقی سب بالکل کورے اور بے فیض ہی رہیں گے۔نور سے آپ کا تعلق باندھنا ضروری ہے کیونکہ وحی مقام نور پر اترتی ہے خواہ وہ غیر نبی کی وحی بھی ہو وہ بھی مقام نور چاہتی ہے۔پس محمد رسول اللہ ﷺ کے نور سے فیضیاب ہونے کا صل الله صلى الله مطلب یہ نہیں کہ یہی آخری مقام ہے، آخری مقام کی طرف یہ تعلق یا لے کر جائے گا۔ان حضرت تمایل یا علی سے تعلق آپ کو اس مرتبے تک پہنچا دیتا ہے جہاں خدا کی تو جہات اترتی ہیں جہاں خدا کا پیار نازل ہوتا ہے اور یہ تو جہات اور یہ پیار انبیاء کے لئے خاص نہیں بلکہ ہر انسان کو عطا ہوتی ہیں۔جو تسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اتر تا اور دلوں کو سکینت