خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 170

خطبات طاہر جلد 15 170 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء ہو وہاں دوسری طرف اس غذا کی گندگی اور بد بودار صورت کا جسم سے نکالنا بھی ایک لازمی امر ہے۔بیکٹیریا بھی کھاتے ہیں اور بیکٹیریا بھی اپنے فضلوں کو باہر پھینکتے ہیں۔تو اگر یہ سلسلہ جاری ہے کروڑ ہا سال سے تو یہ ساری دنیا غلاظتوں سے بھی بھر جاتی یہاں تک کہ بیکٹیریا کے لئے بھی سانس لینے کی جگہ باقی نہ بچتی۔وہ کونسی طاقت ہے جو اس سارے نظام کو از سر نو صحت بخشتی ہے ہر غلاظت کو دور کرتی ہے اور اس کی جگہ پاکیزگی پیدا کرتی ہے۔یہ نظام شمسی ہے۔سورج روز آتا ہے اور ساری رات کے گند دھو کر پھر دوسرے دن چلا جاتا ہے اور پھر دوبارہ آتا ہے اور پھر وہ اس کی صفائی کرتا ہے۔آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ سورج کی صفائی کا نظام کتنا وسیع ہے۔کیسی کیسی شعاعیں اس میں موجود ہیں وہ کس کس چیز پر کیا اثر ڈالتی ہیں۔مگر یہ امر واقعہ ہے کہ اگر سورج نہ نکلتا تو ساری دنیا گندگی سے بھر جاتی۔پس آنحضرت ﷺ کو سراج منیر جو فرمایا گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تم پر لازم ہے کہ شبہات کی غلاظتوں کو دھوؤ اور وہ بھی ممکن ہے کہ روشنی کے سامنے نکلو اس سراج منیر سے فیض پاؤ جسے خدا نے تمہیں پاک صاف کرنے کے لئے بنایا ہے وہ کیا کرتا ہے۔آسمان سے نازل ہوتا ہے اور ہمت بخشتا ہے اور قوت بخشتا ہے اور تمام شبہات کی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے اور دل کو صاف کرتا اور خدا کی ہمسائیگی میں انسان کا گھر بنا دیتا ہے۔پس افسوس ان لوگوں پر کہ بچوں کی طرح گردو غبار میں کھیلتے اور کوئلوں پر لیٹتے ہیں اور پھر آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے کپڑے سفید رہیں اور حقیقی نور کو تلاش نہیں کرتے اور پھر چاہتے ہیں کہ ظلمت سے نجات پاویں۔“ پس ہمیں کیا کرنا ہے ہمیں دنیا کو ظلمت سے نجات بخشنے سے پہلے اس الہی نور سے تعلق باندھنا ہے جس کو سراج منیر فرمایا گیا اور وہ اذن الہی سے چپکا ہے۔اس سے اذن پائیں گے تو ہم بھی اذن کے مقام پر کھڑے ہوں گے۔اگر اس سے اذان نہیں پائیں گے تو ہم بھی اذن کے مقام پر کھڑے نہیں ہوں گے۔اذن کا مقام دو طرفہ مقام ہے۔ایک طرف سے انسان اذن پاتا ہے اور دوسری طرف اذن جاری کرتا ہے اور آدم کو جو سجدے کی تعلیم دی گئی وہ یہی مضمون ہے جو بیان ہوا ہے کہ جب ہم نے اسے اذن دیا تو اسے صاحب اذن بھی بنا دیا اور پھر تمھیں مجبور کیا گیا کہ اس کو سجدہ کرو، اس کی اطاعت کرو اور یہ سجدہ بعض دفعہ طوعی ہوتا ہے، بعض دفعہ جبری ہوتا ہے طـوعــأو كرهاً