خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 169
خطبات طاہر جلد 15 ان صفات کو کمال تک نہ پہنچائے۔169 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء اور پہلے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کمال عقل اور کمال نورانیت قلب صرف بعض افراد بشریہ میں ہوتا ہے کل میں نہیں ہوتا۔اب ان دونوں ثبوتوں کے ملانے سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ وحی اور رسالت فقط بعض افراد کاملہ کوملتی ہے نہ ہر یک فرد بشر کو ( براہین احمدیہ حصہ سوم ، روحانی خزائن جلد نمبر 1، صفحات 191 تا198) پس وحی اور رسالت کے مرتبے پر کھڑا کرنا کہ میرے اذن کے ساتھ آگے پیغام پہنچاؤ یہ ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتا صرف انبیاء کا ملہ کو نصیب ہوتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم پھر دعوت الی اللہ کیسے کریں۔نہ ہماری عقل میںقل ہو، نہ درجہ کمال تک پہنچے۔نہ دل اتنا صاف اور پاک ہو کہ ہر دوسرے میلان سے بچا ہوا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اور کسی کو یہ وحی کا درجہ نصیب ہی نہیں ہوتا۔تو ان اندھیروں میں ہم کس کی طرف بلائیں گے۔جو بے نور جھولیوں میں اندھیرے لئے پھرتے ہوں ان کو حق کیا ہے؟ ان کو تو اذن بھی نہیں ملا ، پھر یہ وہ الجھن ہے جسے میں دور کرنے کی خاطر اب اس اقتباس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پڑھ کے سناتا ہوں۔فرماتے ہیں۔پس گنا ہوں سے بچنے کے لئے اس نور کی تلاش میں لگنا چاہئے جو یقین کی کتار فوجوں کے ساتھ آسمان سے نازل ہوتا اور ہمت بخشا اور قوت بخشا اور تمام شبہات کی غلاظتوں کو دھودیتا“ فرمایا تم سراج منیر تو نہیں بن سکتے مگر سراج منیر کا فیض تو پاسکتے ہو اور جب تک وہ فیض نہیں پاؤ گے تمہارے اندر یقین پیدا ہو ہی نہیں سکتا اور غلاظتیں صاف نہیں ہوسکتیں۔سب سے اچھا ذریعہ Disinfect کرنے کا سورج کی روشنی کے سامنے ڈال دینا ہے۔جیسے اعلیٰ پائے پر سورج کی روشنی Disinfect کرتی ہے یعنی جراثیم کی آلودگیوں سے پاک کرتی ہے ویسی کوئی اور چیز نہیں ہے۔اب دیکھ لیں کب سے کائنات وجود میں آئی ہے کب سے دنیا اپنی ان کیمیاوی ترقیات کے بعد اور حیات کی نشو ونما کے بعد غلاظتوں میں ملوث ہوتی چلی جاتی ہے کیونکہ جہاں ایک طرف کسی غذا کا فیض پانا