خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 156
خطبات طاہر جلد 15 156 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء نہ چاہے بلکہ رستے تلاش کریں کہ میں پھر دوبارہ ایسی ہی نیکیاں کروں، یہ مضامین ہیں جن پر غور کرنے سے آپ حقیقت میں اس دکاندار کی طرح ہوں گے جو سارا دن کی کمائی کے بعد رات کو بیٹھتا ہے ، رات کے چراغ جلاتا ہے، دیکھتا ہے کہ کیا پایا اور کیا کھویا اور جو نہیں کرتا اس کو کچھ پتا نہیں چلتا۔پس میں پسند نہیں کرتا کہ جماعت غافلین کی جماعت ہو۔ہم نے دنیا میں بہت سے ایسے کام کرنے ہیں جن کی توفیق غافلوں کومل نہیں سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھو سِرَاجًا منیرا کی تعریف کے ساتھ داعی الی اللہ کے مضمون کو جیسا کہ قرآن نے فرمایا باندھ کر نمایاں طور پر دکھایا ہے۔داعی الی اللہ کے لئے سراج منیر ہونا ضروری ہے ،اس داعی الی اللہ کے لئے سراج منیر ہونا ضروری ہے جو سب دنیا کو بلا رہا ہے جو سب دنیا کو روشنی کی طرف بلاتا ہے روشنی دے گا تو بلائے گا نا۔جس کی اندھیروں تک رسائی ہی نہیں ہے وہ کیسے لوگوں کو کھینچ کر روشنی کی طرف نکالے گا۔پس آنحضرت ﷺ داعی الی اللہ بنائے گئے اس لئے اللہ فرماتا ہے سِرَاجًا منيرا بنائے گئے۔طبعی تقاضا تھا دعوت الی اللہ کا۔ہماری جماعت آج یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ہم داعی الی اللہ بنائے گئے ہیں تمام دنیا کے انسانوں کو محمد مصطفی اللہ کے نور سے منور کرنے کے لئے۔اب دامن میں کچھ نور ہو گا تو لے کے چلیں گے نا اور کچھ نہیں ہے تو اپنے رومال میں جگنو ہی اکٹھے کر لئے ہوتے۔وہ کچھ روشنیاں چھوٹی چھوٹی جو چمکتی بھی ہیں اور بجھ بھی جاتی ہیں اگر زیادہ اکٹھی ہو جائیں تو اس سے بھی کچھ رستہ دکھائی دینے لگتا ہے تو نور کی تلاش کریں۔تب داعی الی اللہ بنیں گے اور نور کو محفوظ کریں اور اس نور کو پھر چمکائیں اور صیقل کریں تا کہ آپ کے آگے آگے بھاگے جیسا کہ قرآن کریم فرما رہا ہے آپ کا رستہ بھی صاف کرے تو دشمن بھی دیکھے تو جان لے کہ نجات اسی میں ہے کہ اس صاحب نور کے ساتھ چلیں۔جب اندھیرے گھیر لیں، رستے خطرناک ہوں تو کوئی ایک صاحب چراغ بھی ہو سب اکٹھے ہو کر اس کے پیچھے چلتے ہیں اس کا دامن پکڑتے ہیں اس کے ساتھ قدم پر قدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ورنہ خود اپنا نقصان ہے، تو ایسے چمکتے ہوئے نورانی وجود کے طور پر دنیا کے سامنے ابھریں جہاں آنحضرت ملے کے سراج منیر کا کچھ حصہ موجود ہو۔سراج منیر کا لطف یہ ہے کہ سراج منیر ہر نور پیدا کرتا ہے، وہ شمع جو جلائی جاتی ہے وہ بھی