خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 155
خطبات طاہر جلد 15 155 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء پورے کرنے پڑے اور جس نے سب تقاضے پورے کر دیئے اپنے ظرف کے مطابق بعینہ اس کی طاقتوں کے مطابق اس پر بوجھ ڈالا گیا لیکن جو فرق ہے وہ نمایاں فرق ہے۔بہت سے اور پہلو بھی ہیں فی الحال میں ان کا ذکر چھوڑ رہا ہوں۔آخر پہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا خلاصہ یوں نکالتے ہیں، میں مضمون جو نور کے تھے بیان کروں گا لیکن اس موقع پر کیونکہ مضمون وہاں تک پہنچ گیا ہے جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر کا پڑھنا عین مناسب حال ہے۔آپ فرماتے ہیں۔وجود مبارک حضرت خاتم الانبیا ہ میں کئی نور جمع تھے سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہوا اور اس کے وارد ہونے سے الله وجود با وجود خاتم الانبیاء ﷺ کا مجمع الانوار بن گیا (براہین احمدیہ حصہ سوم، حاشیہ نمبر 1 روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 195) وہ حوالہ ایک اور بھی ہے جو اس موقع پر بہت ہی برمحل چسپاں ہو رہا ہے لیکن اس وقت اس کی تلاش میں دقت پیش آرہی ہے شاید اللہ کا منشاء یہی ہے کہ باقی مضمون کو آگے بڑھانے کے بعد پھر آخر پر ہی اس کو پیش کروں۔اب وقت بھی چونکہ ختم ہو رہا ہے اس لئے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں اور یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہ جتنی باتیں میں نے کہی ہیں یہ گزشتہ رمضان کے حوالے سے کہی ہیں۔ابھی وقت ہے کہ ہم ہاتھوں سے جاتے ہوئے رمضان کا جتنا حصہ روک سکتے ہیں روک لیں اور دامن پکڑیں کوشش کریں کچھ تو ہاتھ آجائے۔اس لئے یہ وقت سوچ میں اور فکر میں اور نفس کے مطالعہ میں اور کھوج میں خرچ کریں کہ رمضان آیا تھا، چلا بھی گیا، کچھ دقتیں لے کے آیا کچھ سہولتیں باقی چھوڑ گیا مگر وقتوں نے کچھ ایسی سہولتیں بھی عطا کی ہیں جو دائمی ہو چکی ہیں، جن کے نتیجے میں آپ کہہ سکتے ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے کچھ ایسا تعلق قائم کر لیا ہے جواب مجھ سے وفا کرے گا مجھے کبھی چھوڑ کے نہیں جائے گا۔اگر اس مضمون پر غور کریں اور ہاتھ کچھ نہ آئے جیسے خالی برتن لے کے داخل ہوئے تھے ویسے خالی برتن ہو کے نکلے ہیں، اگر آپ کا غصے پر کنٹرول اتنا نہیں ہے ویسے ہی ہے جیسے پہلے تھا یعنی کوئی اس میں فرق نہیں پڑا۔اگر نفس کی پیروی سے رکنے کی مزید طاقتیں نصیب نہیں ہوئیں ،اگر نیکی کا ایسا لطف نہیں آیا کہ اور نیکیاں کرنے کو جی چاہنے لگے اور جو نیکیاں ہو گئیں ان کو چھوڑنے کو دل