خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 157

خطبات طاہر جلد 15 157 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء سورج کے نور سے بنی ہوئی ہے وہ تیل جس کی طاقت سے ہوائی جہاز اڑائے جاتے ہیں اور بڑے بڑے کارخانے قائم کئے جاتے ہیں وہ بھی سراج منیر سے بنا ہوا ہے اور سِرَاجًا منیرا کی آگ سے نہیں سِرَاجًا منیرا کی روشنی سے۔میں پہلے بھی یہ مضمون آپ پر کھول چکا ہوں میں صرف حوالہ دے رہا ہوں اس حوالہ کو ذہن میں یا درکھیں کہ نو ر الہی ہے جو سورج میں بھی چپکا ہے اور سورج اس صلى الله نور کا پردہ ہے خود نور الہی بذات خود نہیں ہے لیکن وہ پردہ چمک اٹھا ہے نورالہی سے۔آنحضرت یہ وہ نور کا پردہ ہیں۔جس میں خدا اس شان سے چپکا ہے کہ گویا وہی خدا دکھائی دینے لگے۔یہ مضمون ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس سِرَاجًا منیرا سے کچھ نور مانگیں۔اپنی جھولی اس کے آگے پھیلائیں صلى الله اس نور سے اپنا کوئی گوشہ تو منور کریں۔اگر پیار اور محبت سے آپ نے محمد رسول اللہ ﷺ کا نور ما نگا اور اپنایا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ نورا اپنے ارد گرد بھی نور کے لئے جگہیں پیدا کرنا شروع کر دے گا اس نور میں بڑھنے کی صلاحیت ہے اس نور میں پھیلنے کی صلاحیت ہے اور پھر آپ کا سفر حقیقت میں زندگی اور نور کا سفر ہو گا پھر آپ کا سفر بے ثمر نہیں رہے گا۔دعوت الی اللہ کے پھل جب ایسے دائمین الی اللہ کو لگنے لگتے ہیں جونور کی روشنی لے کر چلتے ہیں تو اس نور سے وہ بھی حصہ پاتے ہیں ورنہ بسا اوقات اندھی تبلیغ سے بھی کچھ لوگ احمدی ہو جاتے ہیں اسلام قبول کر لیتے ہیں مگر وہ بھی مردہ مردہ سے رہتے ہیں ، ان میں جان نہیں پڑتی۔آپ وہ نئے ہونے والے مسلمان بنا ئیں آپ وہ نئے ہونے والے احمدی پیدا کریں جو آپ کے نور سے منور ہوں جو محمد رسول اللہ اللہ کے نور کا ایک جلوہ ہے اور آپ کی زندگی سے ان میں بھی جھلکنے لگے۔آپ کی قربانی کی روح ان کے دل میں بھی دھڑ کنے لگے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔اس کے بغیر دنیا زندہ نہیں ہوسکتی۔اس کے بغیر اس دنیا کے اندھیرے تبدیل نہیں ہو سکتے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین