خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد 15 150 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء نے اس رمضان سے کوئی ادنیٰ بھی نور کمایا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔فرماتا ہے اِنک كَادِ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا اے انسان ضرور تو محنت کرے گا اور کر رہا ہے اور انگ میں جو مضمون ہے یہ شرط پیدا کر رہا ہے بڑی شدت کے ساتھ کہ یادر کھ تیرے لئے لازم ہے کہ محنت کرے یہ معنی بھی اسی میں سے نکل رہا ہے ہاں ہم جانتے ہیں کہ تو ضرور محنت کر رہا ہے اور گڈ گا اس لفظ کو اس کے Infinitive کو، اس کے مصدر کو زور پیدا کرنے کے لئے دہرایا ہے کہ بڑی محنت کر رہا ہے تو فَمُلقِیه پس خوشخبری ہو کہ تو اسے ضرور پالے گا۔پس یہ جو پانا ہے یہ نور کمانے والی بات ہے جس کو اردو میں ہم نور کمانا کہتے ہیں۔نور تو ہے مگر اس کو صیقل نہیں کیا گیا اور دروازے کھولے نہیں گئے اور غفلتوں اور سستیوں کے پردوں کو ہٹا کر آسمان کے نور کو اندر پہنچنے کے لئے رستہ نہیں دیا گیا ہو تو اندر کا نور کچھ بھی کام نہیں آسکتا۔پس یہ تین چیزیں ہیں جن کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔ایک اندر کی صلاحیت اور وہ نور جو خد اعطا کرتا ہے پیدائش کے وقت ہر انسان کو حصہ رسدی اس کی توفیق کے مطابق جو تو فیق خدا کی تقدیر نے بنائی ہوتی ہے اس کو ایک نور ملتا ہے۔پھر گنگا کے دور میں وہ ڈالا جاتا ہے اور ایسی آزمائشوں میں مبتلا کیا جاتا ہے جہاں اس کو اس نور کو چمکانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے اور ان روکوں کو دور کرنا پڑتا ہے جو غفلت کی وجہ سے ایسے نوروں کی راہ میں ضرور حائل ہوتی ہیں۔غفلت کی مثال نیند کی ہے۔اب سورج چمک بھی رہا ہو تو تھکے ہوئے آدمی کو مین دو پہر کوسورج کے نیچے بھی نیند آجاتی ہے اور آنکھیں کھولنا بھی چاہے تو مند جاتی ہیں پھر کچھ بھی اس کو دکھائی نہیں دیتا۔تو وہ شخص جو اپنی آنکھوں کو کھولنے کے لئے محنت نہیں کرتا اس پر نیند کا غلبہ آ جائے وہ غفلت کی حالت میں اس روشنی کے وقت سے محروم رہ جاتا ہے اور جہاں تک روحانی آنکھوں کا تعلق ہے ان کا مضمون اس سے زیادہ گھمبیر اور مشکل ہے جو ظاہری روشنی دیکھنے والی آنکھوں سے تعلق رکھتا ہے۔ظاہری روشنی دیکھنے کا تعلق ہماری بسر اوقات سے ہے اور ہم سست بھی ہوں تو مجبوراً کچھ نہ کچھ ضرور کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم بیرونی نور دیکھ سکیں اور اسے حاصل کر سکیں لیکن روحانی بقا میں انسان کو بسا اوقات محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ مر رہا ہے اور اس لئے وہ اپنے لئے لازم نہیں سمجھتا کہ میں ضرور اپنے نور کو چپکاؤں اور اپنی آنکھوں کو کھولوں یہی بڑی وجہ ہے کہ روحانی دنیا میں اندھیرے زیادہ ہیں اور ان کو صاف کرنا ، ان کے پردوں کو چاک کر کے آگے نکلنا زیادہ محنت کو چاہتا ہے اور زیادہ شعور کو چاہتا ہے۔جب تک شعور