خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 149
خطبات طاہر جلد 15 149 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء یہاں وہبت کے ساتھ کسب شامل ہو جاتا ہے۔ایک نور ہے جو فطرت میں ودیعت ہوا ہے اور ہر انسان کو ضرور نور عطا ہوا ہے۔یہ مکن نہیں کہ کوئی انسان بھی نور کے بغیر پیدا ہو۔اگر آپ حواس خمسہ پر غور کریں تو یہ مضمون اور بھی کھل جائے گا۔جو حواس خمسہ میں سے کچھ بھی نہیں رکھتا وہ مرگیا ہے، وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔نور سے مراد صرف آنکھوں کا نور نہیں ہے۔نور سے مراد وہ ذریعہ ابلاغ ہے جو باہر کے حالات کو روح کے اندر تک پہنچاتا ہے اور ذہن کے آخری نقطے میں جو شعور کا آخری نقطہ ہے باہر کی دنیا کی باتیں معلوم ہونے لگتی ہیں جن کا اس ذریعہ ابلاغ کے سوا معلوم ہوناممکن ہی نہیں۔پس اگر ایک آدمی اندھا ہے، بہرہ ہے، گونگا ہے ، اگر وہ لمس کی صفت بھی نہیں رکھتا، اگر مثبت صفات سے عاری ہے اور منفی صفت بھی نہیں رکھتا ، یعنی بھوک محسوس نہیں کرتا ، دکھ محسوس نہیں کرتا ، جلن کا احساس نہیں ، سردی کا گرمی کا احساس نہیں ، نہ سنتا ہے، نہ بولتا ہے تو مردہ اور کس کو کہتے ہیں۔پس کوئی انسان ایسا نہیں جو نور کے بغیر ہو اور ہم اسے زندہ کہہ سکیں۔ہر انسان کو خواہ وہ کمزور ہے یا زیادہ ہے کچھ نہ کچھ نور فطرت عطا ہوا ہے اور جس حد تک کسی کو نو ر فطرت عطا ہوا ہے اسی حد تک اللہ تعالیٰ کا نور اس سے رابطہ کرتا ہے اگر وہ چاہے۔اگر اس کی توجہ اس طرف ہو اور اپنے نور کو نور الہی سے ملانے کے لئے وہ محنت کرے جس کو کسب کہتے ہیں واقعہ توجہ کرے۔اس محنت کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ملتا ہے یا يُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِم إلى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيْهِ (الانشقاق : 7 ) یعنی اے انسان نور تو تجھے عطا ہوا ہے نور فطرت سے تو کسی کو بھی خدا نے خالی نہیں چھوڑ ا مگر ملے گا وہی خدا سے جس کے متعلق فرمایا: انك كَادِ إِلى رَبِّكَ گُن گا تو اپنے رب کی طرف جانے کے لئے بڑی محنت کر رہا ہے فَمُلْقِیهِ پس یا درکھ کہ تیری محنت کام آئے گی اور رائیگاں نہیں جائے گی جس طرح دنیا کی محنت کو پھل لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری طرف آنے کے لئے تو نے جو محنت کی یا جو کرے گا یا کر رہا ہے میں تجھے خوشخبری دیتا ہوں فَمُلْقِیهِ تو اپنے اس رب کو پالے گا جس کے لئے تو محنت کر رہا ہے۔یہی محنت تھی رمضان کی جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ روزے کی میں جزا ہوں کیونکہ یہ محنت خدا کی طرف تھی۔پس اگر کوئی پھل نہ لگا ہواگر ہمارے اندھیرے کسی معنوں میں بھی روشنی میں تبدیل نہ ہوئے ہوں تو ہم پر نہ اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم