خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 135
خطبات طاہر جلد 15 135 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء کہتے ہیں مبشر ہے کر لو کر لو۔اب سوال یہ ہے کہ کیا خوابوں سے اعتبار اٹھ جائے۔ہرگز نہیں۔ان خوابوں کے مطالعہ سے صاف پتا چلتا ہے کہ کس نوع کی خواہیں ہیں جو روحانی ہیں اور کس نوع کی خواہیں ہیں جو رد کرنے کے لائق ہیں اور یہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہے کہ خوابوں کو پہچان سکے اور الگ الگ کر سکے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت عطا ہوتی ہے، ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھو خدا نے کیسا عظیم ملکہ عطا فرمایا لیکن پہلے بچپن کے زمانے میں جب تک یہ ملکہ نہیں ملا تھا خود اپنے خواب کی تعبیر بھی نہیں کر سکے۔بھائیوں کے ہاتھوں مار کھا گئے۔تو یہ نعمت ہے جو ہبہ کے طور پر آسمان سے اترتی ہے اس لئے اس میں تکبر نہیں کرنا چاہئے۔جو بھی خدا کے فضل سے صاحب علم لوگ ہیں ان کی خدمت میں بھیجو اور کئی ایسے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے رویا کا بہت اچھا علم عطا کیا ہوتا ہے صرف ایک شخص کی بات نہیں ہے۔ان سے بات کرو اور پھر عمومی فیصلہ کرو یہ تو میں اس سے استنباط کر کے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔مگر حضور اکرم ﷺ کا انکسار بھی تو دیکھیں۔جن پر وحی نازل ہوئی ہے، جن پر فرمایا کہ ہر روشن نشان عطا کر دیا گیا جس کو زمانے کی تقدیریں تبدیل کرنے کے راز عطا کر دیئے گئے کتنا منکسر المزاج نبی تھا کہ اپنے غلاموں کی بات کو غور سے سنتا ہے۔کہتا ہے ہاں ہوسکتا ہے خدا نے تمہارے ذریعے مجھے پیغام بھیجا ہو لیکن میں چھان بین کر لوں اگر یہ علامتیں ملیں تو پھر مانوں گا۔چنانچہ اس بارے میں آپ نے ان رویا کو قبول فرما لیا اور یہ فیصلہ دیا کہ آئندہ سے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو آخری سات دنوں میں تلاش کرو۔فرمایا نویں رات، یا ساتویں، یا پانچویں کیونکہ سات راتوں میں اکیس اور ئنیس کی نکل جاتی ہے۔یہ پہلی تین کے اندر داخل ہو جاتی ہیں۔پہلے یہی خیال تھا کہ یہ بھی لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی راتوں میں شامل ہیں مگر آنحضور نے ان رویائے صادقہ کی روشنی میں جو دوسروں کو عطا ہوئیں اور آپ کو پیغام کے طور پر بھیجی گئیں یہ فیصلہ فرمایا کہ آئندہ سے چھپیں ،ستائیس اور انتیس کی راتوں میں لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو تلاش کرو۔چپس کی رات تو گزر چکی ہے لیکن دورا تیں ابھی باقی ہیں۔سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک رات معین کیوں نہ بتا دی ؟ آنحضرت ﷺ کو معین بتائی تھی۔عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ باہر تشریف لائے کہ ہمیں