خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد 15 136 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے بارے میں بتائیں کہ کون سی رات ہے اور کیا کرنا چاہئے۔دومسلمان آپس میں جھگڑنے لگے۔آپ نے فرمایا میں تو تمہیں شب قدر کے بارے میں بتانے آیا تھا لیکن ان کے آپس کے جھگڑے کی وجہ سے مجھ سے یہ علم اٹھا لیا گیا۔(بخاری کتاب فضل ليلة القدر باب رفع معرفة ليلة القدر لتلاحي الناس) اب ایک اور سوال اٹھ جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اگر ایک خوشخبری عطا ہوئی تھی سب کو بتانے کے لئے تو لوگوں کے جھگڑے کی وجہ سے وہ واپس کیوں لے لی گئی؟ ایک خیر کے بدلے شر پیدا ہو گیا۔مگر یہ درست نہیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ہو سکتا ہے اس میں تمہاری بھلائی ہو۔پس وہ جو ایک رات بتائی گئی تھی وہ در اصل رسول اللہ ﷺ کو اپنی ذات کے لئے بتائی گئی تھی اور جہاں تک امت کا معاملہ ہے تقدیر یہی تھی کہ ان کو پتا نہ چلے کہ کونسی رات ہے اور بھلائی اس میں وہی ہے جو ایک کہانی کی صورت میں ہمارے سامنے بیان کی جاتی ہے۔کہتے ہیں ایک شخص مرنے لگا تو اس نے اپنے بچوں کو اکٹھا کیا اور نصیحت کی کہ دیکھو میں نے کھیت میں، جو جتنا بھی کھیت اس کے پاس تھا، اس کھیت میں میں نے ایک جگہ خزانہ دفن کیا ہے تو میرے مرنے کے بعد کھود کے تلاش کر لینا یہ نہ ہو کہ وہ دبا ہی رہ جائے۔اس کے بعد انہوں نے کدالیں اٹھا ئیں اور اتنی محنت کی کہ اس ساری زمین کا چپہ چپہ کھود ڈالا اور کوئی خزانہ نہ ملا۔تو ایک عقل والا راہ گیر تھا اس نے کہا یہ کیا کر رہے ہو تم نے تو حشر کر دیا ہے زمین کا۔انہوں نے کہا ہمارے ابا نے یہ کہا تھا مرتے مرتے کہ یہاں تمہارے لئے خزانہ دفن ہے۔ہم نے تو ڈھونڈا ہمیں تو کچھ نہیں ملا۔تو انہوں نے کہا یہی تو خزانہ ہے۔تم نے اس زمین پر اتنی محنت کی ہے کہ اب جو کچھ بھی ڈالو گے وہ سونا اگائے گا۔جو بیج ڈالو گے وہ سونا اگائے گا اور واقعہ جب اس زمین کو انہوں نے کاشت کیا تو ایسی فصل حاصل ہوئی کہ کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں تھی۔تو آنحضرت ﷺ تو ہر رات ہی کو سجایا کرتے تھے آپ کو اگر وہ رات بتا دی گئی تو یہ مطلب نہیں تھا کہ باقی راتوں میں آپ آرام فرمائیں اور کہیں کہ بس اسی رات کو جاگوں گا۔ہم کمزوروں میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو ایک جمعہ کی انتظار میں سارا سال گزارتے ہیں اور اس کے بعد جمعوں سے بھی چھٹی ،نمازوں سے بھی چھٹی۔اگر ان کو رات بتا دی جاتی تو رمضان کی راتیں بھی چھوڑ بیٹھتے۔ایک رات کے لئے سارا دن سوتے اور پھر اس رات ساری رات جاگتے تو دین ایک مذاق بن جاتا۔پس آنحضرت مے جس