خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 134
خطبات طاہر جلد 15 134 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء فرشتے حضرت ابراہیم کے متعلق آتا ہے کہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور ان فرشتوں کے متعلق بھی اور بعض دوسرے فرشتوں کے متعلق بھی یہ کہا جاتا ہے کہ دراصل وہ انسان تھے لیکن نیک اور بزرگ انسان تھے جن کو خدا تعالیٰ نے پیغام دیا اور وہ پیغام ان کے پاس امانت تھا۔وہ لے کر وقت کے نبی کے پاس حاضر ہوئے کہ خدا نے ہمیں یہ پیغام بھیجا ہے اور یہ ہوسکتا ہے۔اگر آنحضرت ﷺ کے تعلق صلى الله میں ہوسکتا ہے تو باقی انبیاء کے تعلق میں تو ضرور ہوا ہو گا اس لئے وہ تفسیر لازماً غلط نہیں ہوسکتی۔یہاں یہ مضمون ہے اور ایک اور جگہ اذان کے متعلق ہمیں پتا چلتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اذان کے الفاظ بتائے گئے اور بعض صحابہ کو بھی بعینہ وہی الفاظ دکھائے گئے تو آنحضرت ﷺ ہر پیغام کو قبول نہیں فرمالیا کرتے تھے۔اس کا جائزہ لیتے تھے اور اپنے نور فراست سے معلوم کرتے تھے کہ کیا یہ واقعہ الہی پیغام ہے اور ایک آپ کا طریق یہ تھا کہ ایک دوسرے کی تائید ڈھونڈتے تھے۔نبی کا تو اکیلا رویا سب دوسری خوابوں پر حاوی ہوتا ہے۔اس کا اکیلے کا پیغام ساری دنیا کے لئے کافی ہے۔مگر جب دوسرے بزرگ کوئی دعوی کریں کہ ہمیں خدا نے کچھ بتایا ہے تو ان کا اکیلا پیغام کافی نہیں۔تب بھی بعض لوگ استخارہ کے جواب میں جب مجھے کہتے ہیں کہ جی ہمیں تو یہ خواب آئی ہے۔میں ان سے کہتا ہوں تم کون سے نبی ہو کہ تمہاری ایک ہی خواب پر ہم اعتماد کر جائیں اور بزرگوں کو بھی دعا کے لئے لکھو سب کی جو مجموعی خوا میں تاثر پیدا کریں گی وہ درست فیصلہ ہوگا۔ورنہ ایک آدھ آدمی پیٹ خراب ہوا سو یا اس کو ڈراؤنا خواب آ گیا اس نے فوراً فیصلہ کر لیا کہ اب یہ شادی نہیں ہونی چاہیئے۔یہ بالکل غلط طریق ہے اور بعض لوگ تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ حکماً رشتے دار کو منع کر دیتے ہیں کہ رات میں نے یہ رویا دیکھی ہے خبر دار ہے جو تم نے یہ شادی کی۔میں ان سے کہتا ہوں کہ خبر دار ہے جو اس کی بات مانی۔بالکل لغو بات ہے۔دعا کرو، استخارہ کرو اور پھر اگر تمہیں خدا تعالیٰ روکتا نہیں ہے، اگر تمہارے دل میں خدا تعالیٰ خود گانٹھ نہیں ڈال دیتا اور لڑکا یا لڑکی نیک ہیں تو رسول اللہ ﷺ کے اس فیصلے کو قبول کردو کہ نیکی کو تم نے ترجیح دینی ہے۔کوئی اس کے اندر برائی نہیں دیکھتے۔تم نے دعائیں کیں تو خدا نے تم کو نہیں روکا اس لئے ایک آدھ آدمی کو اگر کوئی منذر خواب بھی آگئی ہے تو پرواہ نہ کرو جبکہ اس کے مقابل پر مبشر خوا ہیں بھی آرہی ہوتی ہیں۔چنانچہ بعض لوگ جب مجھے ساری خوا میں لکھ کے بھیجتے ہیں استخاروں کے بعد تو عجیب منظر نظر آتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں منذر ہے بالکل نہ کرو۔بعض لوگ