خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد 15 122 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء احادیث میں ملتا ہے کہ اس دن کوئی خاص برکتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں۔سلامتی اور برکتیں یہ دولفظ ہیں دونوں کا تعلق لَيْلَةُ الْقَدْرِ سے ہے۔اور جمعتہ الوداع کے تعلق میں کہ اس جمعہ کا خیال کرو اس جمعے کا نتظار کرو، اس دن جو کچھ مانگنا ہے مانگ لو، آخری جمعہ ہو گا اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ ساری اُمت محمدیہ میں،صلی الله علیه و آله وسلم ، یہ بات رواج پاچکی ہے اور بڑے اہتمام کے ساتھ وہ لوگ بھی جنہوں نے سارا سال نماز نہ پڑھی ہو وہ جمعتہ الوداع کے دن اکٹھے ہو جاتے ہیں۔مسجدیں بھر کر اچھل پڑتی ہیں یعنی وہاں سے نمازی چھلک کر باہر نکل آتے ہیں۔گلیوں میں تمبوتان لئے جاتے ہیں، بازار بند ہو جاتے ہیں اور ہر طرف ایک عظیم منظر دکھائی دیتا ہے عبادت کرنے والوں کا جودیکھنے میں بہت اثر ڈالتا ہے لیکن جو دردناک پہلو ہے وہ یہ ہے کہ کہتے تو ہیں کہ خدا کی عبادت کے لئے ہم اکٹھے ہوئے ہیں اور خاص برکتیں حاصل کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں مگر جمعتہ الوداع کو اس طرح وداع کہتے ہیں کہ جمعوں کو ہی وداع کہہ جاتے ہیں اور جمعوں سے بھی چھٹی ، نمازوں سے بھی چھٹی اور اگلے جمعہ جا کر دیکھیں تو بازار ہی خالی نہیں مسجدیں بھی خالی ہو چکیں ہوتی ہیں اور حیرت ہوتی ہے وہ لوگ آئے کہاں سے تھے ؟ گئے کہاں ؟ جو شمع کا پروانہ ہونے کے دعویدار تھے۔پروانے تو ہر رات میں جب شمع جلتی ہے پھر بھی آجاتے ہیں۔ان کا عشق تو اس سے ثابت ہے کہ وہ اپنی جان نچھاور کر دیتے ہیں۔جل جاتے ہیں مگر ان کی محبت کی شمع نہیں جلتی۔وہ ہمیشہ روشن رہی ہے ہمیشہ روشن رہے گی۔تو یہ کیسی محبت ہے رمضان سے اور جمعۃ الوداع سے کہ آئے اور پھر اس طرح چلے گئے جیسے کبھی کوئی تعلق ہی قائم نہیں ہوا تھا۔پس یہ ایک جذباتی بات ہے دیکھنے میں بہت ہی اثر پذیر منظر ہے کہ دیکھو کتنا عظیم جمعہ آیا ہے سارے بازار بھر گئے گلیاں بھر گئیں لیکن بعد کے آنے والے جمعہ کا بھی تو خیال کرو جب مسجدیں بھی خالی ہو چکی ہوں گی۔وہی چند نمازی جو پہلے آیا کرتے تھے وہی آئیں گے شاید ان میں بھی کمی آجائے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ ایک مہینہ خوب محنت کی ہے اب چند جمعہ آرام بھی تو کر لیں۔قرآن کریم جو منظر پیش کرتا ہے اس کے پیش نظر جیسا کہ میں نے بیان کیا اول تو جمعہ کا ذکر نہیں ہے، ذکر ہے تو رات کا ہے یا ذکر ہے تو سارے رمضان کا ہے اور سارے رمضان میں قرآن کریم جو خصوصیت سے اتارا گیا اس کا وہ معنی بھی درست ہے جو عموم مفسرین کرتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ