خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد 15 121 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء الله زمانے کے اندھیروں کو ہمیشہ کی روشنی میں تبدیل کر دیا کیونکہ اس زمانے کے بعد جو صبح پھوٹی ہے پھر وہ دائمی صبح ہے۔یہ معنے جو بہت ہی اعلیٰ ہیں اور قرآن سے ثابت ہیں ان کو کیوں چھوڑتے ہو۔پس یہ جو آیت ہے جب یہ رمضان والی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے تو اس بات کو خوب کھول دیتی ہے کہ باوجود اس کے کہ رمضان والی آیت میں یہ فرمایا گیا تھا کہ اس مہینے میں قرآن اترا ہے اس آیت میں جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے فرمایا اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ مبرَكَةِ گویا اس کو ہم نے ایک ہی رات میں اتارا ہے۔اب امر واقعہ یہ ہے کہ رمضان ہی میں قرآن نہیں اترا آنحضرت ﷺ کے تمام وسیع دور میں قرآن اترا ہے جو نئیس سال تک پھیلا ہوا ہے اور مسلسل اتر تا رہا ہے۔اسی لئے مفسرین کو مشکل پیش آئی اور انہوں نے یہ ترجمہ کیا کہ مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اترنا شروع ہوا ہوگا۔پھر یہ بھی اس کا معنیٰ لیا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم کا جو دور ہوا کرتا تھا وہ ایک رات میں یا ایک مہینے میں مکمل ہوتا ہو۔مگر اب تو قرآن فرما رہا ہے کہ ایک ہی رات میں اتارا گیا اور پھر دور سارے قرآن کا ہر سال کیسے مکمل ہوسکتا تھا جب کہ قرآن ابھی پورا اتر ہی نہیں تھا۔قرآن کریم تو تئیس سال میں پھیلا ہوا ہے، نئیس سال تک اتر تا رہا ہے۔اس سے پہلے جتنے رمضان آئے تھے ان کے متعلق لفظ یہ کہا جاہی نہیں سکتا کہ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ خواہ اس کی دہرائی ہو چکی ہو، اس کی دہرائی وہاں تک ہوتی تھی جہاں تک قرآن اتر چکا تھا۔پس در حقیقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو عظیم معنی اس آیت کے سمجھے اور ہمارے سامنے پیش فرمائے اس نے بہت سے تفسیری اندھیروں کو دور کیا اور یہ معنی بھی ایک قسم کی لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا منظر پیش کرتے ہیں جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کا نزول ہوا اور اندھیرے روشنیوں میں تبدیل کئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفاسیر کے مقابل پر باقی پرانی باتیں تو واقعہ یوں لگتا ہے جیسے روشنی کے پیچھے اندھیرا ہو۔عظیم الشان تفاسیر ہیں جو نور کے سوتے پھوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پس اس تعلق میں آج آپ کے سامنے کچھ باتیں رکھنا چاہتا ہوں۔مگر سب سے پہلے جمعتہ الوداع کی بات کرتے ہیں کیونکہ اکثر لوگ تو جمعتہ الوداع ہی کا انتظار کرنے میں سال گزارتے ہیں اور مہینہ پھر گزارتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک جمعتہ الوداع ہی ہے جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا اور نہ قرآن میں جمعتہ الوداع کا ذکر ملتا ہے نہ