خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 113
خطبات طاہر جلد 15 113 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء مہینہ آتا ہے اور کوئی شخص جس کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے وہ اس سے باز نہیں آتا تو ایسے شخص کا بھوکا اور پیاسا رہنا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل ستائش ہے ہی نہیں ، قبولیت کے لائق نہیں ہے اور وہ بھوکا پیاسا گزر جائے گا اور اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔تو جھوٹ کی طرف بھی توجہ کریں یہ آج کل بہت پھیل رہا ہے اور میں پہلے بھی بارہا جماعت کو متوجہ کر چکا ہوں کہ جھوٹ کے خلاف ایک عالمی جہاد کی ضرورت ہے جو ہمارے گھروں سے شروع ہوگا ، ہمارے نفوس سے شروع ہوگا ، بسا اوقات لوگ ملتے ہیں کہ جی آپ کے سامنے جھوٹ نہیں بولنا۔میں کہتا ہوں اناللہ وانا اليه راجعون میرے سامنے نہیں بولنا خدا کے سامنے بولتے چلے جانا ہے کیونکہ خدا سے چھپ کے کہاں جھوٹ بولیں گے بہت ہی پاگلوں والا محاورہ ہے۔اب اگر کسی کے منہ پر آئے گا تو مجھے یقین ہے ملاقات کے وقت ہاتھ رکھ کے اپنے آپ کو روک لے گا مگر کئی ہیں جن کو عادت ہے وہ کہتے ہی ہیں۔میں نے اس پہ خطبے دیئے تب بھی کئی آدمی کہتے ہیں۔میں نے کہا واقعہ یہ اسی طرح ہوا تھا؟ کہ جی میں آپ کے سامنے جھوٹ بول سکتا ہوں؟ میں نے کہا جو خدا کے سامنے بول سکتا ہے وہ سب کے سامنے بول سکتا ہے۔یہ بھی جھوٹ ہے کہ آپ کے سامنے نہیں بول سکتا بلکہ ایسے ہی لوگ ہیں جو سامنے جھوٹ بولتے ہیں۔اس لئے جھوٹ ایک بڑی لعنت ہے اور جب یہ عادت بن جائے تو انسان کو پتا ہی نہیں چلتا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں یہ بڑی بدنصیبی ہے اور اتنی عادت بن چکی ہے دنیا میں کہ آپ دیکھ کے حیران ہوں گے۔بعض ملک کے ملک قوموں کی قومیں جھوٹ کے سمندر میں ایسا غرق ہو چکے ہیں کہ ان کو پتا ہی نہیں کہ ہم ڈوب چکے ہیں اور فنا ہو چکے ہیں احساس ہی نہیں رہا اور سب سے بڑا عذاب اسی احساس کا مٹ جاتا ہے کہ جھوٹ ایک لعنت ہے اور ہمیں سچائی کی طرف لوٹنا ہو گا۔یہ جو جھوٹ کا سیلاب ہے اس نے اب بڑی بڑی ایسی قوموں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو کسی زمانے میں سچائی پر فخر کرتی تھیں اور یہ جو قوموں کا معاملہ ہے یہ ہر ملک میں الگ الگ قبائل سے بھی تعلق رکھتا ہے۔مجھ سے ملنے کے لئے ایک معزز دوست پاکستان سے تشریف لائے جن کے قبیلے کی بعض روایات ہیں بڑی بلند اور مقدس روایات ہیں کہ ظلم نہیں کرنا ، جھوٹ نہیں بولنا فلاں کام نہیں کرنا۔تو انھوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ اب تو سارے ملک میں اپنے علاقے میں جدھر نگاہ ڈالتے ہیں سب